.

ترک روزنامے سے وابستہ صحافی نے جمال خاشقجی کی ریکارڈنگ کے دعوے کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں مقیم ترک روزنامے صباح سے وابستہ صحافی نے اس دعوے کی تردید کردی ہے ،جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے اخبار کے پاس سعودی شہری اور صحافی جمال خاشقجی سے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں تفتیش کی کوئی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔

ترک صحافی رجب سوئلو نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ روزنامہ صباح کے پاس جمال خاشقجی کی موت سے متعلق کوئی ریکارڈنگ موجود نہیں ہے اور اس حوالے سے دعوے درست نہیں ہیں ۔

انھوں نے یہ وضاحت ترکی کے بعض خبری ذرائع کی اس اطلاع کے بعد جاری کی ہے کہ روزنامہ صباح نے تین منٹ کی ایک ویڈیو حاصل کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جمال خاشقجی سعودی قونصل خانے کے اندر موجود تھے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنا کر جان سے مار دیا گیا ہے۔

جمال خاشقجی کے 2 اکتوبر کو استنبول میں لاپتا ہونے کے بعد سے اب تک اس قسم کی مختلف اطلاعات سامنے آچکی ہیں اور ذرائع کی تصدیق کے بغیر سعودی عرب کے خلاف من گھڑت خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔