.

افغانستان: قندھار کے گورنر ، پولیس اور انٹیلی جنس سربراہان اپنے ہی محافظ کی فائرنگ سے ہلاک

طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی ، ہدف امریکی اور نیٹو فوج کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کے تین اعلیٰ عہدے دار وں ۔۔ گورنر ، انٹیلی جنس چیف اور پولیس کے سربراہ۔۔۔ کو ان کے اپنے ہی محافظ نے ایک سکیورٹی کانفرنس کے دوران میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔طالبان کے ایک ترجمان نے اس واقعے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کانشانہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر تھے مگر وہ محفوظ رہے ہیں۔

صوبہ قندھار کے نائب گورنر آغا لالہ دستگیری نے بتایا ہے کہ صوبائی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق اور انٹیلی جنس کے سربراہ عبدالمہیمن فائرنگ سے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے ۔صوبائی گورنر زلمے وصا حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔انھیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر امریکی جنرل اسکاٹ ملر اور جنرل عبدالرازق حملے کا ہدف تھے۔تاہم نیٹو کے حکام کا کہنا ہے کہ جنرل ملر حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق قندھار شہر میں جمعرات کو صوبائی گورنر کے دفتر میں اعلیٰ سطح کا سکیورٹی اجلاس ہورہا تھا اور اس میں ہفتے کے روز ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جارہا تھا۔اس دوران میں اچانک ایک کمانڈو محافظ نے اجلاس کے شرکاء پر فائرنگ شروع کردی ۔اس سے اجلاس میں شریک ایک صحافی بھی ہلاک ہوگیا ہے اور تین امریکی زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں ایک فوجی ، ایک سویلین اور ایک ٹھیکے دار ہے۔

ایک افغان عہدہ دار کا کہنا ہے کہ ’’ اجلاس کے اختتام پر جب مذکورہ اعلیٰ عہدے دار باہر نکل رہے تھے تو ان پر ایک محافظ نے اچانک فائرنگ کردی۔اس سے افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے دو اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں‘‘۔ایک اور اطلاع کے مطابق حملہ آور محافظ کو وہیں گولی مار کر ڈھیر کردیا گیا ہے۔

واقعے کے فوری بعد افغان سکیورٹی فورسز نے گورنر کے دفتر اور اس کے نواحی علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا۔قندھار کے ایک شہری کا کہنا تھا کہ ہر طرف ہی سکیورٹی اہلکار نظر آرہے تھے اوروہ کسی کو بھی گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔

نیٹو حکام نے اس کو اندرونی یعنی افغان کا افغانوں پر حملہ قرار دیا ہے۔پاکستان کی حکومت نے فائرنگ کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے جمہوری عمل کا تسلسل ضروری ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے لیے 20 اکتوبر کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی 249 نشستوں کے لیے قریباً ڈھائی ہزار امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ملک میں پولنگ سے قبل تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ طالبان کے علاوہ داعش کے جنگجو اب تک متعدد انتخابی امیدواروں یا ان کے جلسوں کو بم حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔

ان حملوں میں دس سے زیادہ انتخابی امیدوار ہلاک ہوچکے ہیں ۔ان میں زیادہ تر کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے۔بدھ کو جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے بم حملے میں ایک انتخابی امیدوار جابر قہرمان ہلاک ہو گئے تھے۔ بم ان کے انتخابی دفتر میں ایک صوفے کے نیچے چھپایا گیا تھا ۔ طالبان ہی نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔