.

خاشقجی کیس میں غلط طور پر متعارف سعودی شہری نے میڈیا کا بھانڈپن فاش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے پُراسرار طور پر لاپتا ہونے کے حوالے سے اب تک جو من گھڑت اطلاعات سامنے آئی ہیں،ان میں ایک سعودی شہری ولید الشہری سے متعلق ہے اور انھوں نے خود ہی سوشل میڈیا کے ذریعے اس بھانڈ پن کو فاش کردیا ہے۔

ترکی کے اخبارات نے ولید الشہری کی تصویر بھی ان پندرہ سعودیوں کے ساتھ شائع کی تھیں ، جنھیں سعودی انٹیلی جنس کے اہلکار بنا کر پیش کیا گیا تھا اور ان کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ استنبول میں جمال خاشقجی کو ٹھکانے لگانے کے مشن پر آئے تھے۔

لیکن ولید الشہری نے اپنے خلاف میڈیا کے اس پروپیگنڈے کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو جاری کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ وہ تین سال قبل ترکی گئے تھے اور یہ بھی ان کا کوئی سیاحتی سفر نہیں تھا بلکہ وہ پیرس سے ایک پرواز پر سعودی عرب آرہے تھے اور ان کی پرواز ترکی میں مختصر وقت کے لیے رُکی تھی ۔بس اتنی دیر وہ بھی وہیں رکے تھے۔

قبل ازیں جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کے بعد استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر اترنے والے سعودی سیاحوں پر سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ وہ ایک نجی سعودی جیٹ پر آئے تھے اور اس طیارے کے عملہ کے ساتھ دیکھے گئے تھے۔

اتاترک ہوائی اڈے پر تجارتی پروازوں کے ٹرمینل پر سیاحوں کی متعدد تصاویر منظر عام پر آئی ہیں مگر کسی نجی طیارے کے نہیں ۔یہ سیاح ترکی میں آتے جاتے رہتے ہیں اور وہ کسی طیارے کے عملہ کے ارکان بھی نہیں ہوتے ہیں ۔ان ہی میں سے ایک سعودی اور اس کی اہلیہ کی تصویر کو بھی خاشقجی کیس میں غلط طور پر استعمال کیا گیا ہے اور اس جوڑے کو بھی سعودی انٹیلی جنس کے اہلکار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔