.

عوام جمال خاشقجی کیس سے متعلق افشا معلومات کو نظر انداز کردیں:ترک وزیر انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیرانصاف عبدالحمید گل نے عوام سے کہا ہے کہ وہ سعوی صحافی جمال خاشقجی کے کیس سے متعلق افشا ہونے والی معلومات کو نظر انداز کردیں ۔

مختلف خبری اداروں نے ترکی کے بے نامی ذرائع کے حوالے سے جمال خاشقجی کے کیس سے متعلق خوف ناک شواہد حاصل کرنے کے دعوے کیے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے بھی ایسے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ انھیں لاپتا کرنے میں کس کا ہاتھ کارفرما ہے۔

سعودی صحافی کے استنبول میں 2 اکتوبر کو لاپتا ہونے کے حوالے سے اب تک مختلف من گھڑت کہانیاں سامنے آچکی ہیں ۔ان میں ایک 15 سعودی سیاحوں کے بارے میں ہے ،جن پر یہ الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ دراصل سعودی انٹیلی جنس کے اہلکار تھے اور انھیں جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے لیے استنبول بھیجا گیا تھا ۔ ایک دعویٰ ان کے ہاتھ پر بندھی ایپل گھڑی کے بارے میں کیا گیا تھا کہ اس کی ریکارڈنگ سے ا ن پر تشدد اور قتل کا اشارہ ملتا ہے مگر ان دونوں دعووں کو بعد میں شواہد کے ساتھ مسترد کردیا گیا تھا۔

واشنگٹن میں متعیّن سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے بھی جمال خاشقجی لاپتا کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کے دوست ہیں اور جب وہ واشنگٹن میں ہوتے تھے تو ان سے رابطے میں رہتے تھے۔

دریں اثناء سابق امریکی صدر جارج بش کے قومی سلامتی کے مشیر فرانسیس ٹاؤنسنڈ نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ترکی کو افواہوں کے سدباب کے لیے سرکاری طور پر اگر کوئی اس کے پاس ثبوت ہے تو اس کو افشا کرنا چاہیے اور ابہام کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

وہ دی ا کانومسٹ کے ڈیفنس ایڈیٹر شاشانک جوشی کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی کے خاشقجی کیس سے متعلق بیانات کو بہت سے خبری ذرائع تصدیق کے بغیر سچ سمجھ کر جاری کررہے ہیں اور وہ بیک وقت ایک متضاد تصویر پیش کرتے ہیں۔

واشنگٹن میں مقیم ترک روزنامے صباح سے وابستہ صحافی رجب سوئلو نے بھی بدھ کو اس دعوے کی تردید کردی تھی،جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے اخبار کے پاس جمال خاشقجی سے سعودی قونصل خانے میں تفتیش کی کوئی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ روزنامہ صباح کے پاس جمال خاشقجی کی موت سے متعلق کوئی ریکارڈنگ موجود نہیں اور اس حوالے سے دعوے درست نہیں ہیں ۔

انھوں نے یہ وضاحت ترکی کے بعض خبری ذرائع کی اس اطلاع کے بعد جاری کی تھی کہ روزنامہ صباح نے تین منٹ کی ایک ویڈیو حاصل کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جمال خاشقجی سعودی قونصل خانے کے اندر موجود تھے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنا کر جان سے مار دیا گیا تھا۔ان کے 2 اکتوبر کو استنبول میں لاپتا ہونے کے بعد سے اب تک اس قسم کی مختلف اطلاعات سامنے آچکی ہیں اور ذرائع کی تصدیق کے بغیر سعودی عرب کے خلاف من گھڑت خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔