.

افغانستان: پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ، تشدد کے واقعات میں 130 افراد ہلاک اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران میں تشدد کےو اقعات میں 130 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں ۔ سیکڑوں پولنگ مراکز پر بد انتظامی کے مظاہر دیکھنے میں آئے ہیں اور سیکڑوں ، ہزاروں ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

افغان طالبان نے اپنے ہم وطنوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ انتخابی عمل کا بائیکاٹ کردیں اور اپنے جانیں بچانے کے لیے پولنگ مراکز سے دو ر رہیں۔انھوں نے اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دارالحکومت کابل سمیت مختلف شہروں میں بم دھماکے اور پولنگ مراکز پر حملے کیے ہیں۔کابل میں مختلف بم دھماکوں میں چار افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوگئے۔

افغان الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ 360 پولنگ مراکز میں ووٹ ڈالنے کے وقت میں اتوار تک توسیع کی جاسکتی ہے۔ان مراکز پر رجسٹرڈ ووٹروں کی فہرستیں بروقت فراہم نہ ہونے اور بائیو میٹرک مشینوں میں خرابی کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا عمل شروع کرانے میں بہت تاخیر ہوئی ہے۔بعض مراکز پر انتخابی عملہ بہت تاخیر سے پہنچا تھا اور بعض میں مشینیں درست طور پر کام نہیں کررہی تھیں۔

شمالی شہر قندوز میں بھی تشدد کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا عمل متاثر ہوا ہے ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں 20 سے زیادہ راکٹ گرے تھے جن کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور کم سے کم چالیس زخمی ہوگئے۔طالبان نے قندوز شہر سے کئی کلومیٹر دور واقع ایک پولنگ مرکز پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں آزاد الیکشن کمیشن کا ایک ملازم ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔مشرقی صوبے ننگرہار میں آٹھ بم دھماکے ہوئے ہیں ۔ان میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان نے ملک بھر میں پولنگ مراکز اور دوسری عوامی جگہوں پر تین سو سے زیادہ حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ان کی دھمکیوں کے باوجود بڑے شہری مراکز میں ووٹروں کی بڑی تعداد اپنا حق رائے استعمال کرنے کے لیے پولنگ مراکز پر آئی تھی اور انھوں نے گھنٹوں ووٹنگ کا عمل شروع ہونے کا انتظار کیا۔

افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی عملہ میں شامل اساتذہ کی ایک بڑی تعداد تاخیر سے پولنگ مراکز پر آئی تھی جس کی وجہ سے پولنگ کے آغاز میں تاخیر ہوئی تھی ۔کمیشن نے اس کے ازالے کے لیے پولنگ کا وقت چار گھنٹے تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ افغان پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی 249 نشستوں کے لیے ڈھائی ہزار سے زیادہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ملک بھر میں قریباً پانچ ہزار پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے اور تین سال کی تاخیر سے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے قریباً نوّے لاکھ افغانوں کے ووٹ رجسٹر تھے۔ افغان حکام کے مطابق پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان 10 نومبر کو کیا جائے گا۔

جنگ زدہ ملک میں پولنگ سے قبل بھی تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ طالبان کے علاوہ داعش کے جنگجو ؤں نے بھی انتخابی امیدواروں یا ان کے جلسوں کو بم حملوں میں نشانہ بنا یا تھا۔ ان حملوں میں دس سے زیادہ انتخابی امیدوار ہلاک ہو گئے تھے۔ جنوبی صوبے قندھار کے تین اعلیٰ عہدے دار وں ۔۔ گورنر ، انٹیلی جنس چیف اور پولیس کے سربراہ۔۔۔ کو جمعرات کو صوبائی دارالحکومت میں ان کے اپنے ہی محافظ نے ایک سکیورٹی کانفرنس کے دوران میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا ۔طالبان نے اس واقعے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے کے بعد قندھار میں ایک ہفتے کے لیے پولنگ موخر کردی گئی ہے۔