.

بھارت: ٹرین شہریوں کے ھجوم پر چڑھ گئی، 50 سے زاید ہلاک، درجنوں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی ریاست پنجاب کے شہر امرتسر میں دسہرے کے تہوار کے موقع پر راون کو جلاتے ہوئے ایک ٹرین حادثے میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی صحافیوں اور عینی شاہدین نے بتایا کہ امرتسر کے جوڑا پھاٹک پر ایک ریلوے ٹریک کے پاس راون کو جلایا جا رہا تھا۔ اس دوران بہت سے لوگ ریل کی پٹڑی پر بھی بیٹھے ہوئے تھے۔

مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے کے قریب جب راون کے پتلے کو آگ لگائی گئی تو سٹیج سے لوگوں کے پیچھے ہٹنے کی اپیل کی گئی۔ اسی دوران لوگ پیچھے ہٹے اور پٹڑی پر ٹرین آگئی۔ اس سے وہاں موجود بھیڑ کا ایک بڑا حصہ ٹرین کی زد میں آ گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق بہت سے افراد موبائل فونز پر تہوار کی ویڈیو بنا رہے تھے اور انھوں نے تیزی سے آتی ہوئی ٹرین کو نہیں دیکھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کے شور کی وجہ سے لوگ شاید ٹرین کی آواز نہیں سن سکے۔

ہجوم سے ٹکرانے والی ٹرین جالندھر سے امرتسر جا رہی تھی۔ دوسہرا کے اس پروگرام میں سٹیج پر پنجاب کے نائب وزیر اعلی نوجوت سدھو کی بیوی نوجوت کور سدھو بھی موجود تھیں۔ ڈپٹی پولیس کمشنر نے بتایا کہ ہسپتالوں اور ایمبیولنس کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

اس واقعے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایک عینی شاہد امر ناتھ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ ٹرین کی ٹکر سے لوگ ’کچلے‘ گئے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے پٹڑی سے لاشیں ہٹائیں۔۔۔ میرے ہاتھ خون سے بھرے ہوئے تھے۔‘

ایک اور مقامی رہائشی امت کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ دسہرا کے دوران ’ہر سال جب یہاں تہوار منایا جاتا ہے لوگ پٹڑیوں پر بیٹھتے ہیں۔‘

اس حادثے کے بعد ریاست پنجاب میں آج ہفتے کو سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رہیں گے۔ حادثے پر سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس بھی اپنے ٹویٹر پیغام میں اس واقعے کو ’دل خراش‘ قرار دیا۔