.

خاشقجی کیس سے متعلق شاہی احکامات سے انصاف کا بول بالا ہوگا: سعودی علماء کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے کبار علماء کی کونسل نے کہا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کی موت کی ابتدائی تحقیقات کے بعد جاری کردہ شاہی احکامات سے انصاف اور شفافیت کا بول بولا ہوگا۔

سعودی پراسیکیوٹر نے جمعہ کو ابتدائی تحقیقات کے بعد جمال خاشقجی کی موت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ترکی کے شہر استنبول میں دو ہفتے قبل ہاتھا پائی اور تشدد کے نتیجے میں ان کی موت ہوئی تھی۔اس واقعے میں اٹھارہ افراد کے ملوث ہونے کا شُبہ ہے اور وہ تمام سعودی شہری ہیں ۔یہ تمام افراد اس وقت زیر حراست ہیں ۔انھیں جمال خاشقجی کی موت اور اس کو چھپانے کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے۔

اس اعلان کے بعد شاہی دیوان کے مشیر سعود القحطانی اور انٹیلی جنس کے نائب سربراہ احمد العسیری کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر نگرانی جنرل انٹیلی جنس ایجنسی کی کمان کی تنظیم نو کا حکم دیا ہے اور ایک شاہی فرما ن کے ذریعے انٹیلی جنس ایجنسی میں کام کرنے والے متعدد افسروں کو برطرف کردیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب خاشقجی قتل کیس کے سلسلے میں سچائی کو منظرعام پر لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہا ہے اور اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔