.

ایران: زمین پر فساد برپا کرنے کا الزام، سونے کے تاجروں کو سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں عدلیہ کے ترجمان غلام حیسن ایجہ ای نے پیر کے روز بتایا ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک میں سونے کے دو تاجروں وحید مظلومین اور محمد اسماعیلی قاسمی کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق مقدمے کے ابتدائی فیصلے میں دونوں افراد کو "زمین پر فساد برپا کرنے" کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور آج سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے کو توثیق کر دی گئی ہے۔

وحید مظلومین کو "سکوں کا سلطان" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق اُس نے دو ماہ کے دوران تقریبا دو ٹن سونے کے سکوں کی خرید و فروخت کی۔

جہاں تک محمد اسماعیلی قاسمی کا تعلق ہے تو استغاثہ نے اُس پر تین ہزار سونے کے سکّے خرید کر مظلومین کے حوالے کرنے کا الزام عائد کیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت نے قاسمی اور مظلومین کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ جاری کیا ہے جب کہ ایران کے فوج داری قانون میں سونے کے سکوں کی خرید و فروخت کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ قاسمی اور مظلومین کو 2012ء میں بھی گرفتار کیا گیا تھا مگر بعد ازاں ان کو ایران کے مرکزی بینک کے ایک اعلان کے بعد رہا کر دیا گیا۔ اعلان میں بتایا گیا تھا کہ دونوں افراد نے سونے کے سکوں کی منڈی میں اپنی سرگرمیاں ایران کے مرکزی بینک کے ساتھ رابطہ کاری سے انجام دیں۔

اگرچہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کی ہدایت پر قائم کردہ خصوصی عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف تحقیقات میں تیزی دکھائی گئی تاہم ساتھ ہی ملزمان کی جانب سے اپیل کے امکان کو ختم کر دیا گیا۔ یہ پہلو ایرانی قوانین کے مخالف ہے اور قانونی ماہرین اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران غیر ملکی کرنسی اور سونے کے سکوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایران کی عدلیہ نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ ان افراد پر غیر قانونی سرگرمیاں انجام دینے کا الزام عائد کیا گیا جس سے مارکیٹ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔