.

سعودی عرب ،بحرین کا مشترکہ اقدام،قاسم سلیمانی اور پاسداران انقلاب دہشت گرد قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور بحرین نے مشترکہ اقدام کرتے ہوئے تین افراد اور ایک ادارے کو ایران کی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں مالی اور مادی معاونت کے الزام میں دہشت گرد قرار دے دیا ہے اور ان پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔امریکا کا محکمہ خزانہ انھیں پہلے ہی دہشت گرد قرار دے کر پابندیاں عاید کر چکا ہے۔

ان کے نام یہ ہیں:

1۔ قاسم سلیمانی ( سربراہ القدس فورس ایران)
2۔حامد عبد اللاہی
3۔عبدالرضا شہلائی
4۔سپاہِ پاسداران انقلاب ایران ۔

سعودی عرب کی اسٹیٹ سکیورٹی پریذیڈینسی اور اہدافی مرکز برائے دہشت گردی مالیات ( ٹی ایف ٹی سی ) نے طالبان اور ان کے ایرانی سہولت کار نو افراد کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

سعودی عرب اور امریکا دونوں ٹی ایف ٹی سی کے شریک چئیرمین ہیں۔اس کے دیگر رکن ممالک میں متحدہ عرب امارات ، کویت ، اومان ، بحرین اور قطر شامل ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان افراد اور ادارے کی دہشت گردی کی سرگرمیوں اور ان کے لیے رقوم مہیا کرنے کا سراغ مشترکہ کوششوں کے ذریعے لگایا گیا ہے۔

انھوں نے طالبان کی مندرجہ ذیل شخصیات اور ان کے ایرانی سہولت کاروں کے خلاف پابندیاں عاید کی ہیں اور انھیں دہشت گرد قرار دیا ہے:

1۔محمد ابراہیم اوحدی
2۔اسماعیل رضوی
3۔عبداللہ صمد فاروقی
4۔محمد داؤد مزمل
5۔عبدالرحیم منان
6۔محمد نعیم باریش
7۔عبدالعزیز شاہ زمانی
8۔صدر ابراہیم
9۔حافظ عبدالمجید

21 مئی 2017ء کو اس مرکز کے قیام کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ اس نے مشترکہ اقدام کرتے ہوئے خطے میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ٹی ایف ٹی سی کے رکن ممالک دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی کی روک تھام کی غرض سے مشترکہ اقدامات کررہے ہیں ۔وہ دہشت گردوں کو رقوم کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے نیٹ ورکس کا سراغ لگانے کی غرض سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں تاکہ اس مرکز کے رکن ممالک کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا بروقت مقابلہ کیا جاسکے۔

ٹی ایف ٹی سی کے اس اقدام اور رکن ممالک کے قوانین کے تحت مذکورہ افراد کی جائیدادیں ،اثاثے اور آمدن کے ذرائع منجمد کر لیے جائیں گے اور مرکز کے رکن ممالک کے شہری پابندیوں کی زد میں آنے والے ان افراد کے ساتھ کسی قسم کا کوئی مالی لین دین نہیں کرسکیں گے۔