.

برطانیہ : پاکستانی نژاد وزیر داخلہ کے بھائی کی موت خود کشی کا نتیجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے پاکستانی نژاد وزیر داخلہ ساجد جاوید کے 51 سالہ بھائی طارق جاوید کی موت کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے خود کشی کی تھی۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ طارق جاوید نے اپنی زندگی کے خاتمے کے لیے لندن سے 64 کلو میٹر دور واقع کاؤنٹی West Sussex کے قصبے Horsham میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل South Lodge کا انتخاب کیا۔ طارق نے موت کو گلے لگانے سے قبل اپنی اہلیہ کے نام دو خطوط بھی لکھے۔ ان میں ایک خط میں انہوں نے اپنی اہلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا سلسلہ جاری رکھیں۔

بدھ کے روز بعض ویب سائٹوں کے ذریعے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق طارق جاوید نے مذکورہ کاؤنٹی کی ایک سُپر مارکیٹ میں کافی مقدار میں شراب پی۔ اس کے بعد وہ ہوٹل میں اپنے کمرے میں آئے اور غسل کیا۔ بعد ازاں طارق نے نشے کی حالت میں تیز دھار چھرے سے اپنا گلا کاٹ ڈالا۔ اس کے نتیجے میں خون کی کثیر مقدار بہہ جانے سے وہ دم توڑ گئے۔

یاد رہے کہ طارق کی موت رواں سال 29 جولائی کو ہوئی تھی۔ تاہم اُس وقت یہ خبر میڈیا کی خاص توجہ حاصل نہیں کر سکی تھی۔ اس لیے کہ طارق دل اور معدے سے متعلق بیماریوں سمیت کئی امراض میں مبتلا تھے لہذا یہ سمجھا گیا کہ اُن کی موت کسی بیماری کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید کے بھائی اور کاروباری شخصیت طارق جاوید کی خود کشی کی خبر منگل کے روز ایک فارنزک سروس کے ذریعے مقامی میڈیا تک پہنچی۔ تفصیلات کے مطابق طارق کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے دونوں خطوط پڑھنے کے بعد ہوٹل انتظامیہ سے رابطہ کیا اور اپنے شوہر کے بارے میں پوچھا۔ انتظامیہ کی جانب سے بارہا رابطے کی کوشش کے باوجود طارق کی جانب سے کوئی جواب نہ آیا۔ اس پر کمرے کی متبادل چابی کے ذریعے اندر جا کر دیکھا گیا تو غسل خانے میں طارق کی برہنہ لاش خون میں لت پت پڑی ہوئی تھی۔ لاش کے برابر میں ایک چھرا پڑا ہوا ملا جو تحقیقات کے بعد آلہ قتل ثابت ہوا۔

لاش کے مختلف ٹیسٹ کیے جانے پر طارق کے خون میں الکحل کی مقدار اوسط سے 5 گُنا زیادہ پائی گئی۔ یہ شراب کے اُن چار پیگ کا نتیجہ تھا جو طارق نے خود کشی کرنے سے قبل پیے تھے۔ طارق کی اہلیہ کا نام سیلفیا ہے جو 15 برس سے اُن کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔ دونوں کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

طارق جاوید کے چار چھوٹے بھائی ہیں۔ ان میں 50 سالہ خالد جاوید (مالیاتی امور کے ماہر)، 48 سالہ ساجد جاوید (برطانوی وزیر داخلہ)، 47 سالہ باسط جاوید (West Midlands کاؤنٹی کے پولیس سربراہ) اور 43 سالہ عاطف جاوید )پراپرٹی کے شعبے میں مشہور سرمایہ کار) شامل ہیں۔

ان پانچوں بھائیوں کے والد عبدالغنی 1961ء میں اپنی اہلیہ زبیدہ کے ساتھ ہجرت کر کے برطانیہ پہنچے تو اُن کی جیب میں ایک پاؤنڈ بھی نہیں تھا۔ عبدالغنی نے برطانیہ میں بس ڈرائیور کے طور پر اپنی زندگی گزار دی۔ وہ چھ برس قبل سرطان کے مرض کا شکار ہو کر 74 برس کی عمر میں فوت ہو گئے تھے۔