.

غربِ اردن میں اسرائیلی فوج مستقلاً تعینات رہے گی: نیتن یاہو

اسرائیلی فوج کو ہٹایا گیا تو حماس فلسطینی صدر محمود عباس کی حکومت کا دھڑن تختہ کر دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں صہیونی فوج مستقل طور پر برقرار رکھی جائے گی ۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجی اس فلسطینی علاقے میں موجود نہیں رہتے ہیں تو حماس دو منٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو نکال باہر کرے گی۔

نیتن یاہو نے بدھ کے روز یہود کی ایک بڑی تنظیم کے زیر اہتمام کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے پاس غزہ کی پٹی ایسی غلطی دُہرانے کا موقع نہیں رہا ہے۔

جب ان سے غربِ اردن کے بارے میں ان کے ویژن کے بارے میں پو چھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ فلسطینی ریاست ایسے لیبل سے گریز کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ ’’ابو ماذن ( محمود عباس) اور ان کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی دونوں اسرائیل کے تحفظ ہی میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’انھیں ( فلسطینیوں کو ) اپنا نظم ونسق چلانے کے لیے تمام اختیارات حاصل ہونے چاہییں لیکن ہمیں ڈرانے دھمکانے کا انھیں کوئی اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے‘‘۔

انھوں نے جیوش فیڈریشن برائے شمالی امریکا کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں کہا کہ ’’ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں اسرائیل ہے اور صرف اور صرف اسرائیل ہی سکیورٹی کا ذمے دارہے۔ذرا اندازہ لگائیے اس سے کون فائدے میں رہے گا؟‘‘پھر خود ہی انھوں نے اس کا جواب دیا کہ ’’فلسطینی اتھارٹی ۔اس پر دو منٹ میں چڑھائی کی جاسکتی ہے۔چند سال قبل ہم نے حماس کی ابو ماذن کا تختہ الٹنے کی سازش بے نقاب کی تھی۔اگر ہم وہاں نہ ہوتے تو پھر فلسطینی صدر بھی نہ ہوتے۔وہ انھیں سیاسی طور پر ہی نہیں بلکہ ویسے بھی قتل کرچکے ہوتے ۔جب ہم نے غزہ کو چھوڑا تو یہی کچھ ہوا تھا‘‘۔

ان کا اشارہ غزہ سے 2005ء میں اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے بعد علاقے پر حماس کے سکیورٹی کنٹرول کی جانب تھا۔ حماس نے 2006ء میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔اس کے ایک سال بعد 2007ء میں اس تنظیم کے تحت سکیورٹی فورسز نے صدر محمود عباس کی وفادار فورسز کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا اور پھر اس علاقے کا خود کنٹرول سنبھال لیا تھا۔تب سے غزہ کی پٹی میں حماس کی عمل داری چلی آرہی ہے۔