لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر امریکا کی اضافی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی جانب سے منظور کیے جانے والے ایک نئے قانون کے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ قانون لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر اضافی پابندیاں عائد کرتا ہے۔

جمعرات کے روز اپنے خطاب میں ٹرمپ نے باور کرایا کہ ان پابندیوں کا مقصد حزب اللہ کو اس کی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ کے حصول سے محروم کرنا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بات بیروت میں امریکی میرینز کے مرکز پر ہونے والے حملے کے 35 سال گزرنے کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔

نئی پابندیوں کے تحت حزب اللہ کو مادی یا کسی بھی طریقے سے سپورٹ فراہم کرنے والے شخص کا امریکا میں داخلہ ممنوع ہو گا۔

اسی طرح نیا قانون ٹرمپ انتظامیہ کو پابند بناتا ہے کہ ایک اعلانیہ رپورٹ پیش کرے جس میں حزب اللہ ملیشیا کی قیادت اور ان کے شراکت داروں کے اثاثوں کی تفصیل موجود ہو۔ ان افراد میں لبنانی حکومت کے وہ افراد شامل ہیں جو حزب اللہ ملیشیا سے اتحاد رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس بات کا بھی تعین کیا جائے کہ آیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمںٹ کو دہشت گردی کی سپورٹ کرنے والے افراد کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔

رواں ماہ کے ابتدائی حصّے میں امریکی وزارت خزانہ نے لبنانی تاجر محمد عبدالله الامين کا نام دہشت گردی سے متعلق فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ الامین 7 کمپنیوں کا مالک ہے جن کا صدر دفتر لبنان میں ہے۔ اُس پر حزب اللہ کے لیے مالی رقومی کی فراہمی کا الزام ہے۔ حالیہ قانون کے تحت الامین اور اس کی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی لپیٹ میں لے لیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ الامین کے زیر انتظام ساتوں کمپنیاں یہ ہیں :

Sierra Gas S.A.L. Offshore, Lama Foods S.A.R.L., Lama Foods International Offshore .S.A.L., Impulse S.A.R.L., Impulse International S.A.L. Offshore, M. Marine S.A.L. Offshore, and Thaingui S.A.L.Offshore

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں