.

استنبول میں 4 ملکی سربراہ اجلاس ، بشار کا انجام شامی عوام کے حوالے کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

استنبول میں شام کے حوالے سے منعقد ہونے والا چار ملکی سربراہ اجلاس ہفتے کی شام اختتام پذیر ہو گیا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ شام کی آئین ساز کمیٹی کا کام شروع کیا جائے اور بشار الاسد کی قسمت کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے۔

اجلاس میں شریک ترکی، روس، جرمنی اور فرانس کے سربراہان نے آئین کی درستی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جنیوا میں شام کی آئین ساز کمیٹی قائم کرنے اور اقوام متحدہ کے زیر نگرانی شفاف انتخابات کے لیے پس منظر تیار کرنے پر اتفاق کیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے باور کرایا کہ صدر بشار الاسد کا انجام اندرون اور بیرون ملک موجود شامی عوام کے فیصلے کے ساتھ وابستہ ہے۔

استنبول کے ایشیائی حصّے میں واقع قصرِ "وحد الدین" میں منعقد اجلاس 2 گھنٹے اور 45 منٹ جاری رہا۔ اجلاس میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن، روسی صدر ولادی میر پوتین، فرانس کے صدر امانوئل ماکروں اور جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ایردوآن نے بتایا کہ "چار ملکی سربراہ اجلاس میں شام کی اراضی کی وحدت اور سوشی میں ادلب کے حوالے سے طے پائے گئے معاہدے ،،، ان دونوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں شریک قائدین نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں شامی پناہ گزینوں کی واپسی کا مطالبہ کیا اور شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اہمیت پر بھی زور دیا"۔

سربراہ اجلاس کے اختتامی بیان میں شام کے زیر قیادت ایک جامع سیاسی عمل کے لیے سپورٹ کا اظہار کیا گیا جس کے لیے اقوام متحدہ سہولت کار کا کردار ادا کرے۔ ساتھ ہی شامی جماعتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی سرگرم شرکت کو یقینی بنائیں۔

اس موقع پر روسی صدر ولادی میر پوتین نے ادلب میں ہتھیاروں سے خالی علاقے کے قیام کا عمل مکمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ فرانس کے صدر امانوئل ماکروں نے ادلب میں شامی حکومتی فورسز اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کی کسی بھی عسکری کارروائی کو یکسر مسترد کر دیا جہاں نقل مکانی کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

سربراہ اجلاس میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو، وزیر دفاع خلوصی آقار اور وزیر خزانہ برات آلبائراک نے شرکت کی۔ روس کی جانب سے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور وزیر دفاع سرگئی شوئگو موجود تھے۔ اجلاس میں ماکروں اور میرکل کے ہمراہ ان کے کئی مشیر تھے۔ عالمی سربراہان اور ان کے وفود کے علاوہ سربراہ اجلاس میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا نے بھی شرکت کی۔

چار ملکی سربراہ اجلاس سے قبل ایردوآن نے روس اور فرانس کے صدور اور جرمن چانسلر کے ساتھ علاحدہ ملاقاتیں کیں۔

مذکورہ سربراہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب ترکی نے سرحد پار شمالی شام میں امریکا کی حمایت یافتہ کرد ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے جنگجوؤں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک نئے فوجی آپریشن کی دھمکی دے رکھی ہے۔ واضح رہے کہ ترکی ایس ڈی ایف کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔