.

امریکا کی ایرانی معیشت پر پابندیوں کے اثرات مرتب ہوں گے: جواد ظریف کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا کی ایرانی تیل کی تجارت پر پابندیوں کے ملکی معیشت پر اثرات مرتب ہوں گے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایران ان سے اپنی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرے گا اور امریکا کی یہ مشق لاحاصل رہے گی۔

جواد ظریف نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ پابندیوں کا ایک معاشی اثر تو ہوگا لیکن ان سے پالیسی تبدیل نہیں ہوگی‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ امریکا پابندیاں لگانے کا عادی ہے اور اس کو یقین ہے کہ یہ تمام مسائل کا مداوا ہوسکتی ہیں لیکن یہ پابندیاں مسائل کا علاج نہیں ہیں بلکہ ان سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں ۔حکومت کے طور پر ہماری یہ ذمے داری ہے کہ ہم عوام پر ان کے کم سے کم اثرات کو منتقل ہونے دیں لیکن ان پابندیوں سے پالیسی کبھی تبدیل نہیں ہوگی‘‘۔

وزیر خارجہ جواد ظریف نے استنبول میں ترکی اور آذر بائیجان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کے بعد کہا کہ ’’ عالمی برادری اب امریکی پابندیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ہمسایہ ممالک اور یورپی اقوام واشنگٹن کے یک طرفہ اقدامات کی مزاحمت کررہے ہیں‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں 2015ء میں ایران کے ساتھ چھے ممالک کے طے شدہ جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اگست میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عاید کردی تھیں ۔ان میں ایرانی کرنسی میں لین دین ، دھاتوں اور آٹو سیکٹر کو ہدف بنایا گیا تھا۔اب امریکا 4 نومبر کو ایران کی تیل کی تجارت اور اس کے ساتھ کاروباری لین دین پر مزید پابندیاں عاید کررہا ہے۔