.

ڈنمارک میں ایرانی انٹیلی جنس کے حملے کی ناکام سازش پر تہران سے ڈینش سفیر واپس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک نے اپنی سرزمین پر ایران کی خفیہ ایجنسی کی تین ایرانیوں کے خلاف حملے کی ناکام سازش کے بعد تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

ڈینش وزیر خارجہ آندرس سیموئلسن نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’ میں نے تہران میں متعیّن ڈنمارک کے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈنمارک کسی بھی طرح اس بات کو قبول نہیں کرسکتا کہ ایرانی انٹیلی جنس سروس سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہمارے ملک میں مقیم لوگوں کے خلاف حملے کی سازش تیار کی تھی‘‘۔

قبل ا زیں ڈینش پولیس کی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ فن بورش اینڈرسن نے اس شُبے کا اظہار کیا تھا کہ ایرانی انٹیلی جنس سروس نے ڈنمارک میں ایک شخص پر حملے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس مبیّنہ حملے کا ہدف عرب جدوجہد تحریک برائے آزادیِ اہواز کی ڈینش شاخ کے سربراہ تھے۔ ڈینش افسروں نے ان پر حملے کی کوشش کے الزام میں ناروے کے ایک ایرانی نژاد شہری کو 21 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا اور اس سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ گرفتار شخص ایرانی انٹیلی جنس کا ڈنمارک میں کارندہ تھا اور اس کو اسی الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔’’ مختصراً یہ ایرانی انٹیلی جنس کمپنی کا ایک کیس ہے جس نے ہمارے نقطہ نظر سے ڈنمارک میں ایک حملے کی منصوبہ بندی کی تھی‘‘۔ان کا کہنا تھا ۔

اس اطلاع کے منظرعام پر آنے کے بعد ڈینش وزیر خارجہ آندرس سیموئلسن نے کہا تھا کہ ڈنمارک میں اس طرح کے مشتبہ حملوں کی منصوبہ بندی بالکل ناقابل قبول ہے اور حکومت ایران کے خلاف ردِ عمل کا اظہار کرے گی۔