.

’’امریکا دوست اور اتحادیوں کو ایران کے خلاف پابندیوں کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے خام تیل برآمد کرنے پر پابندیاں لگا کر تہران کو دباو میں لانا چاہتے ہیں، تاہم امریکی انتظامیہ ایسا اقدام کرتے ہوئے ان ملکوں کو گزند نہیں پہنچانا چاہتی جو ایران کی ایسی برآمدات پر تکیہ کرتے ہیں۔

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے سے نکلنے کے بعد واشنگٹن ان دنوں تہران کی تیل کی صنعت پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے، تاہم وہ اپنے ان اتحادیوں کے لئے کچھ رعاتیں بھی رکھنا چاہتا ہے جو ایران سے خام تیل درآمد کرتے ہیں۔

ہیملٹن سوسائٹی سے اپنے خطاب میں جان بولٹن نے کہا کہ ’’ہم ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اپنے دوست اور اتحادیوں کو بھی متاثر ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔‘‘

بولٹن کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی جغرافیائی طور پر ایران کے قریط چند ایسے ملکوں کا دورہ کیا ہے کہ ’’جو ہماری پابندیوں کو فوری طور پر نافذ العمل نہیں کر سکتے۔‘‘ ایران پر کڑی سے کڑی پابندیوں کے پرچارک جان بولٹن کی طرف سے یہ بیان مفاہمت کا عندیہ ظاہر کرتا ہے۔

تاہم، مسٹر بولٹن نے مزید کہا کہ امریکی پابندیوں کے نتائج ایرانی ریال کی قدر میں روز بروز کمی کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ’’میں سمجھتا ہوں یہ اہم ہے اور ہمیں اپنی کوششوں میں نرمی نہیں لانی چاہئے۔‘‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وزرائے خزانہ اور توانائی کے نام صدارتی میمورنڈم تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے اس امر کا تعین کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے علاوہ پیٹرولیم اور اس سے بننے والی اس سے بننے والی منصوعات کے لئے دوسرے ذرائع موجود ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے تہران سے خام تیل کی خریداری پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

قانون کے تحت امریکی صدر وقتاً فوقتاً ایسا حکمنانہ جاری کرتے رہیں گے جس میں اس امر کی نشاندہی کی جائے گی کہ آیا مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی کے ایسے غیر ایرانی سوتے موجود ہیں کہ جن کی جانب رجوع کر کے دوسرے ملک ایران سے خام تیل کی خریداری پر انحصار کم سے کم کر سکتے ہیں۔

ایران میں تیل کی صنعت کے خلاف امریکی پابندیوں کا اطلاق پانچ نومبر سے ہو گا۔

سابق صدر باراک اوباما کے دوران میں منظور کئے جانے والے امریکی قانون کے بموجب امریکا ان ملکوں کے مالیاتی اداروں پر پابندی عائد کر سکتا ہے جو ایران سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کم نہیں کریں گے۔

ایران سے خام تیل خریدنے والے پانچ بڑے ملکوں بشمول ترکی، چین اور بھارت نے واشنگٹن کی جانب سے ایرانی خام تیل کی خریداری کم کرنے کے مطالبے پر عمل درآمد نہیں کیا۔

رواں ہفتے جنوبی کوریا نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو سے درخواست کی تھی کہ وہ امریکی پابندیوں سے متاثر ہونے والی بعض کمپنیوں کو رعائت دیں۔ دیگر ممالک جن میں عراق اور افغانستان بھی شامل ہیں، ایرانی تیل کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ رعایت دینے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ باری آنے پر کریں گے۔