.

ٹرمپ تارکین وطن پر گولی چلانے سے متعلق اپنے بیان سے پلٹ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اُس بیان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جس میں انہوں نے میکسیکو کی سرحد کے راستے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن پر فائرنگ کا عندیہ دیا تھا۔

جمعے کی شام صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے باور کرایا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں سے ہر گز یہ مطالبہ نہیں کیا کہ تارکین وطن کی جانب سے پتھراؤ کی صورت میں اُن پر گولیاں چلائی جائیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ "فوجیوں کو فائرنگ نہیں کرنا ہو گی۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ یہ لوگ (مظاہرین) پتھراؤ نہ کریں"۔

ٹرمپ کے مطابق جو تارکین وطن پتھراؤ کریں گے "انہیں طویل عرصے کے لیے گرفتار کر لیا جائے گا"۔

اس سے قبل جمعرات کے روز ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ "سرحد پر تارکین وطن نے اگر امریکی فوجیوں پر پتھراؤ کا ارادہ کیا تو فوج بھی جواب دے گی"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "اگر یہ لوگ پتھراؤ کریں جیسا کہ انہوں نے میکسیکو کی پولیس اور فوج کے ساتھ کیا، تو ایسی صورت میں امریکی فوجیوں کو چاہیے کہ اس عمل کو بندوق کے استعمال کے مترادف شمار کریں"۔

امریکی فوجی ترجمان نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ رواں ہفتے کے اختتام تک سات ہزار سے زیادہ فوجیوں کو میکسیکو کے ساتھ سرحد پر تعینات کر دیا جائے گا۔