.

بچوں کی بھرتیاں تہران کے خلاف اضافی امریکی پابندیوں کا سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ نے جنگی جرائم اور قانونی طور پر کم عمر بچوں کو عسکری معرکوں کے لیے بھرتی کرنے پر تہران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران پر امریکی اقتصادی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ بھی آج چار نومبر سے نافذ العمل ہو گا۔

ادھر ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے امریکا کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا سہارا لینا امریکا کے لیے باعث عار ہے۔

امریکی وزارت خزانہ میں غیر ملکی اثاثوں پر نظر رکھنے والے بیورو نے باور کرایا ہے کہ نئی پابندیاں ایران کی باسیج فورس کے زیر انتظام تجارتی کمپنیوں اور مالی اداروں کو اپنی لپیٹ میں لیں گی کیوں کہ یہ فورس بارہ برس سے کم عمر کے بچوں کو بھرتی کر کے انہیں القدس فورس میں شامل کرتی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے طور پر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پابندیوں کے لاگو ہونے کا دن ایران کے عوام کی جانب سے امریکی صدر کے لیے ایک طمانچہ ثابت ہو گا۔ پاسداران نے ایرانیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں مذمتی ریلیوں میں شریک ہوں۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یورپی فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے سلسلے میں تہران کی مدد کی جائے گی۔

ایسے میں جب کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی بیان بازی جاری ہے، ایران نئے طریقوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے مرکز"Tanker Trackers" نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے آئل ٹینکروں نے اکتوبر میں اپنے ٹرانسمیٹرز آف کر دیے تھے تا کہ خود کو بین الاقوامی نگرانی کے سسٹم کی اسکرینوں سے چُھپایا جا سکے۔