.

ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کی مخالف کرتے ہیں : یورپی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین میں اقتصادی امور کے کمشنر Pierre Moscovici کا کہنا ہے کہ یورپی یونین ایران پر تیل اور مالیاتی سیکٹر سے متعلق پابندیوں کے دوبارہ عائد کیے جانے کی مخالفت کرتی ہے۔

مذکورہ پابندیوں کے نافذ العمل ہونے سے چند گھنٹے قبل ریڈیو فرانس اِنفو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ "یورپی یونین اس پر آمادہ نہیں"۔

ایران پر امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ آج پیر کے روز سے نافذ العمل ہو رہا ہے۔ اس مرحلے میں ایران کے بینکاری اور تیل کے سیکٹر کے ساتھ ساتھ 700 شخصیات اور اداروں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں امریکی انتظامیہ تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچا دینا چاہتی ہے۔

ایران پر امریکی پابندیوں میں کئی سیکٹر شامل ہیں جن میں اہم ترین یہ ہیں :

- جہاز رانی، سمندری جہاز بنانے کی صنعت، مالیات اور توانائی پر پابندی۔

- تیل سے متعلق پابندیوں کا دوبارہ فعّال ہونا بالخصوص نیشنل ایرانین آئل کمپنی (NIOC)، نیفٹ ایران انٹر ٹریڈ کمپنی (NICO) اور نیشنل ایرانین ٹینکر کمپنی (NITC) کے ساتھ مالیاتی لین دین اور ایران سے تیل، تیل کی مصنوعات یا پٹروکیمیکل مصنوعات خریدنے پر پابندی۔

- غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ایرانی مرکزی بینک اور بعض ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ اقتصادی لین دین پر پابندی۔

- ایرانی مرکزی بینک اور ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ مختص فنانشل سروسز سے متعلق پابندیاں۔

- انشورنس سروسز کی فراہمی سے متعلق پابندیاں۔

- ایران کے انرجی سیکٹر سے متعلق پابندیاں۔

ان کے علاوہ امریکا اُن اجازت ناموں کو بھی منسوخ کر دے گا جو جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ایران کے ساتھ لین دین کے لیے امریکی اداروں کو جاری کیے گئے تھے۔