.

شمالی کوریا کی اپنی سرزمین پر خواتین کے استحصال سے متعلق رپورٹ کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا نے انسانی حقوق کی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" کی اُس رپورٹ کی سخت مذمت کی ہے جس میں شمالی کوریا میں خواتین کے جنسی استحصال کا رحجان پھیلنے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔

جمعرات کے روز جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی پولیس اور متعدد عہدے دار خواتین کو سزا سے قریبا مکمل طور پر بچ نکالنے کے مقابل ان کا استحصال کر رہے ہیں۔

ادھر شمالی کوریا میں انسانی حقوق کا مطالعاتی جائزہ لینے والی انجمن نے اپنے ایک بیان میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کو "منطق کے منافی" قرار دیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ اُس سیاسی منصوبے کا حصّہ ہے جو دشمن قوتوں نے شمالی کوریا کی تصویر مسخ کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔ انجمن کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ انتہائی خطرناک اشتعال انگیزی پر مبنی ہے۔ رپورٹ کا مقصد جزیرہ نما کوریا میں امن اور ترقی کے راستے کو سبوتاژ کرنا ہے۔

ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں شمالی کوریا کی ایک خاتون کی گفتگو پیش کی گئی جو عمر کی چوتھی دہائی میں ہے۔ وہ کپڑوں کے کاروبار کے میدان میں کام کرتی تھی۔ عورت نے بتایا کہ وہ کس طرح سے "مردوں کے رحم و کرم" پر تھی جنہوں نے اس کے ساتھ ایک جنسی آلے کے طور پر برتاؤ کیا۔

پیونگ یانگ حکومت نے باور کرایا ہے کہ وہ "حقیقی انسانی حقوق" کا تحفظ کرتی ہے اور مغرب کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دنیا کے بقیہ حصوں میں انسانی حقوق کے معیار کا تعین کرے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینیتھ روس کا کہنا ہے کہ "شمالی کوریا میں جنسی تشدد کوئی راز کی بات نہیں ، یہ ایک حقیقت ہے جس کے پھیلنے پر روک نہیں لگائی گئی"۔