.

پابندیاں توڑ کر تیل کی فروخت جاری رکھیں گے : حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران پر امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ آج پیر کے روز سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس مرحلے میں ایران کے بینکاری اور تیل کے سیکٹر کے ساتھ ساتھ 700 شخصیات اور اداروں کو ہدف بنایا گیا ہے۔

دوسری طرف ایران کے صدر حسن روحانی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک تیل فروخت کرے گا اور پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا۔ اقتصادی عہدے داروں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے روحانی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت "حالتِ جنگ" میں ہے اور تہران کے حوالے سے امریکا کے انتہائی اقدامات کے ساتھ مشرق وسطی میں کشیدگی جنم لے رہی ہے۔

روحانی کے مطابق "امریکا چاہتا ہے کہ ایران کی تیل کی فروخت کو صفر تک پہنچا دے... تاہم ہم اپنے تیل کی فروخت اور پابندیاں توڑنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے"۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم اقتصادی جنگ کی پوزیشن میں ہیں اور ہمیں بدمعاش قوت کا سامنا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ امریکا کی تاریخ میں کوئی ایسا شخص وہائٹ ہاؤس میں داخل ہوا ہو جس نے اس حد تک قانون اور بین الاقوامی سمجھوتوں کی دھجیاں بکھیری ہوں"۔

روحانی کے مطابق "ہمیں مسلط ہونے والے دشمن کا سامنا کرنا ہو گا۔ ہمیں چاہیے کہ ڈٹ جائیں تا کہ کامیاب ہو سکیں۔ امریکا کو یہ جان لینا ہو گا کہ وہ ایران کے خلاف طاقت کی زبان استعمال نہیں کر سکتا۔ ہم کسی بھی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں"۔

ایران پر امریکی پابندیوں میں کئی سیکٹر شامل ہیں جن میں اہم ترین یہ ہیں :

- جہاز رانی، سمندری جہاز بنانے کی صنعت، مالیات اور توانائی پر پابندی۔

- تیل سے متعلق پابندیوں کا دوبارہ فعّال ہونا بالخصوص نیشنل ایرانین آئل کمپنی (NIOC)، نیفٹ ایران انٹر ٹریڈ کمپنی (NICO) اور نیشنل ایرانین ٹینکر کمپنی (NITC) کے ساتھ مالیاتی لین دین اور ایران سے تیل، تیل کی مصنوعات یا پٹروکیمیکل مصنوعات خریدنے پر پابندی۔

- غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ایرانی مرکزی بینک اور بعض ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ اقتصادی لین دین پر پابندی۔

- ایرانی مرکزی بینک اور ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ مختص فنانشل سروسز سے متعلق پابندیاں۔

- انشورنس سروسز کی فراہمی سے متعلق پابندیاں۔

- ایران کے انرجی سیکٹر سے متعلق پابندیاں۔

ان کے علاوہ امریکا اُن اجازت ناموں کو بھی منسوخ کر دے گا جو جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ایران کے ساتھ لین دین کے لیے امریکی اداروں کو جاری کیے گئے تھے۔