.

پومپپو کا ایران پر پابندیوں پر 8 ممالک کے استثنیٰ کا دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ان آٹھ ممالک کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے ایران پر پابندیوں میں‌ انہیں استثنیٰ‌ دینے کا دفاع کیا ہے۔ ان ممالک کو وقتی طور پر پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ ایران سے تیل خرید سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان آٹھ ممالک نے ایران کے ساتھ تعاون اور اس سے تیل کی خرید میں بہت حد تک کمی کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق ان آٹھ ممالک میں امریکی اتحادی اٹلی، جاپان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ترکی کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے آج سے ایران سنہ 2015ء کو برخاست کی گئی اقتصادی پابندیاں دوبارہ بحال کردی ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران پر لگنے والی یہ پابندیاں اس پر لگائی جانے والی ’اب تک کی سخت ترین پابندیاں ہوں گی‘۔ ان پابندیوں کا نشانہ ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والی تمام ریاستیں ہوں گی۔

امریکی فیصلے کے تحت سن 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد جو پابندیاں ختم ہوئی تھیں وہ دوبارہ عمل میں آ جائیں گی۔

تمام آٹھ ممالک کو وقتی طور پر ایران سے تیل کی خریداری کے لیے ان پابندیوں سے چھوٹ دی گئی ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای ٹوئٹر پر کہہ چکے ہیں کہ امریکی فیصلہ اس کے اپنے مقام اور لبرل جمہوریت کے لیے باعث ’ذلت ہے‘۔

امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے شعبوں میں جہاز رانی، سمندری جہاز بنانے کی صنعت، فنانس اور توانائی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سیکرٹری نے کہا ہے بین الاقوامی ادائیگیوں کا نیٹ ورک ’سوفٹ‘ بھی ایران سے تعلق ختم کر دے گا اور اس صورت میں ایران بین الاقوامی فنانس سِسٹم سے مکمل طور پر کٹ جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل مئی میں بھی ایران پر کچھ پابندیاں دوبارہ لگا دی تھیں اور یہ پابندیوں کی دوسری کھیپ ہے۔