.

ہندوستانی شہزادی کی کہانی جو جنوبی کوریا کی ملکہ بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی کوریا کی خاتون اوّل کِم جونگ سوک ان دنوں بھارت بالخصوص اُتر پردیش کے پرانے شہر ایودھیا کے دورے پر ہیں۔ اس موقع پر ہندوستان کی اُس شہزادی کی عظیم کہانی ایک بار پھر زبانوں پر آ گئی ہے جس نے پرانے زمانے میں جنوبی کوریا کا سفر کیا تھا تا کہ وہاں ملکہ بن جائے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جنوبی کوریا کے بہت سے لوگوں سمجھتے ہیں کہ ان کی خاندانی جڑیں بھارت کے شہر ایودھیا سے ملتی ہیں۔ اس خیال کو کوریا کی کئی تاریخی کہانیوں سے تقویت ملتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہSuriratna نامی ہندوستانی شہزادی نے جنوبی کوریا کے بادشاہ سے شادی کر لی تھی۔ اس شادی کے نتیجے میں Karak کے شاہی سلسلے کا آغاز ہوا۔ کہانی کے مطابق ہندوستانی شہزادی 48ء کے قریب (تقریبا دو ہزار سال قبل) جنوبی کوریا گئی تھی۔ شہزادی اپنے کوریائی نام "ہیو ہوانگ اوک" سے بھی جانی جاتی ہے۔

بعض چینی روایتوں میں ہے کہ اُس وقت کے ایودھیا کے بادشاہ کو خواب میں خدا کی طرف سے حکم ہوا تھا کہ وہ اپنی 16 سالہ بیٹی کو جنوبی کوریا بھیجے تا کہ اُس کی شادی وہاں کے حکمراں کِم سورو سے ہو جائے۔

جنوبی کوریا میں مختلف تاریخی کہانیوں پر مشتمل ایک قدیم کتاب Samguk Yusa ہے۔ اس کتاب کے مطابق ہندوستانی نژاد ملکہ ہوانگ اوک درحقیقت مملکتِ "ایوتا" کی شہزادی تھی۔

تاریخ روایتوں کے مطابق اس شاہی جوڑے نے آسودہ اور خوش حال زندگی گزاری جو 150 سال سے زیادہ جاری رہی۔ اس دوران بادشاہ اور ملکہ کے ہاں 10 بچوں کی پیدائش ہوئی۔

جنوبی کوریا کے ماہرِ بشریات كِم بیونگمو کے مطابق "ایوتا" ہی دراصل بھارتی "ایودھیا" ہے اور دونوں نام صوتی طور پر مماثلت رکھتے ہیں۔

البتہ ایسی کوئی تاریخی دلیل نہیں جس اس بات کو ثابت کرتی ہو کہ اس ہندوستانی شہزادی کا واقعتا وجود تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی جنوبی کوریائی سروس کے ڈیوڈ کین کے مطابق "دانش وروں کے نزدیک اس شہزادی کی اصلی کہانی کو مفروضہ سمجھا جاتا ہے اور وہ اسے تاریخ کا حصّہ خیال نہیں کرتے"۔

واضح رہے کہ "کِم" کا خاندانی نام جنوبی کوریا میں عمومی طور پر پھیلا ہوا ہے اور "کِم سورو" بادشاہ کو کِم قبیلے کا باپ شمار کیا جاتا ہے۔

کوریا میں عادتا بیٹا اپنے نام کے ساتھ باپ کا خاندانی نام لگاتا ہے تاہم ہندوستانی نژاد ملکہ اس بات پر ناخوش تھی کہ اس کی اولاد ملکہ کا نام نہیں لگا رہے۔ روایتوں کے مطابق بادشاہ نے اپنے دوبیٹوں کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ اپنی ماں کے نام کا حصّہ "ہیو" لگا لیں۔ یہ نام آج بھی کوریا میں استعمال ہو رہا ہے۔

بعض مؤرخین کے مطابق آج اس کوریائی بادشاہ اور ہندوستانی شہزادی کی نسل سے جنم لینے والی اولاد کی تعداد 60 لاکھ سے زیادہ ہے جو جنوبی کوریا کی کُل آبادی کا 10 فی صد ہے۔

جنوبی کوریا کے سابق صدر کِم ڈائی جونگ اور سابق وزیراعظم کِم جونگ پِل کا دعوی ہے کہ اُن کا تعلق اسی شاہی سلسلے سے ہے۔

بعض حلقوں کے نزدیک جنوبی کوریا میں بہت سے لوگ ہندوستان کی اس عظیم شہزادی کو نہیں جانتے کیوں کہ اس کا دور بہت پرانا تھا۔