.

امریکی کانگریس تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی دو مسلمان خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا لگتا ہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے حیران کن نتائج میں خواتین کو امتیازی حیثیت حاصل ہو گی اور یہ "تارکین وطن" کے حق میں بھی اچھے ثابت ہوں گے۔

ابتدائی نتائج میں ریپبلکنز نے سینیٹ میں برتری برقرار رکھی ہے جب کہ امریکی میڈیا نے بدھ کی صبح بتایا ہے کہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو کنٹرول حاصل ہے۔

حالیہ وسط مدتی انتخابات میں دو ناموں نے میڈیا کے منظرنامے پر نمایاں جگہ بنائی۔ یہ دونوں نام خواتین کے ہیں اور دونوں ہی مسلمان اور غیر امریکی نژاد ہیں۔ جی ہاں ،،، فلسطینی نژاد رشیدہ طلیب اور صومالی نژاد الہان عمر پہلی مسلمان خواتین ہیں جو ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے کامیابی حاصل کر کے ایوان نمائندگان میں پہنچی ہیں۔

اس تاریخی پیش رفت میں صومالی پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا آنے والی الہان عمر نے ریاست منی سوٹا میں ڈیموکریٹک اکثریت والے علاقے سے ایوان نمائندگان کی نشست جیت لی۔

الہام کے علاوہ رشیدہ طلیب نے ریاست مشی گن سے ایوان نمائندگان کی نشست اپنے نام کی۔ ڈیٹروئٹ میں فلسطینی والدین کے ہاں پیدا ہونے والی رشیدہ کو اپنے علاقے میں کسی ریپبلکن امیدوار کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

الہان نے بدھ کو علی الصبح اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعے تمام ووٹروں کا شکریہ ادا کیا۔ اس سے قبل وہ مشی گن سے کامیاب ہونے والی رشیدہ کو مبارک باد کا پیغام دے چکی تھیں۔

اس جیت کے بعد 36 سالہ الہان عمر کانگریس میں پہلی صومالی نژاد قانون ساز اور پہلی باحجاب خاتون رکن ہوں گی۔

دو سال قبل 2016ء میں الہان نے ریاست کی قانون ساز کونسل کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی رات ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخابات میں جیت کو گلے لگایا۔

جہاں تک رشیدہ طلیب کا تعلق ہے تو وہ درجںوں ٹی وی کلپس اور میگزینز میں نمودار ہو چکی ہیں۔ امریکی میڈیا نے اُن کو ایک ایسی خاتون قرار دیا ہے جو خوف کا نام تک نہیں جانتی۔ وہ 2008ء میں مشی گن کی قانون ساز کونسل میں منتخب ہونے والی پہلی مسلمان رکن تھیں۔