.

میشیل اوباما کی سوانح حیات : بچوں کے جنم دینے میں چیلنجز اور ٹرمپ سے شدید ناراضی کا ذکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سابقہ خاتون اول میشیل اوباما کی یادداشتوں پر مشتمل سوانح حیات "Becoming" منظر عام پر آ گئی ہے۔ کتاب میں سابق صدر باراک اوباما کی اہلیہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مرتبہ سقوط حمل کے بعد ان کو دو بیٹیوں کی ماں بننے کے لیے کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ وہ مادہ تولید کو مصنوعی طریقے سے اپنے رحم میں داخل کروانے پر مجبور ہو گئیں۔

سابقہ خاتون اول کے مطابق "بہت سے شادی شدہ جوڑوں کو چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ جان لیں کہ یہاں تک کہ باراک اور میشیل اوباما کو بھی اپنی محبت کے ساتھ اپنی شادی کے بندھن کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے"۔

میشیل اوباما اور ان کے شوہر کو اس سوانح حیات کو شائع کروانے پر 6 کروڑ ڈالر کی رقم ملی ہے۔ یہ سابقہ سربراہان اور خواتین اول کی یادداشتوں کے حوالے سے ایک نیا ریکارڈ ہے۔

میشیل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہیں اپنے شوہر کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے کی بہت کم امید تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ "یہ سوچنا بہت مشکل ہے کہ جس ملک میں آپ پر ظلم ہوا ہو، آپ کسی روز اس کی قیادت بھی کر سکیں۔ افریقی نژاد امریکی سمجھتے تھے کہ ملک کسی سیاہ فام صدر کے لیے تیار نہیں ہے"۔

ایک دل چسپ انکشاف میں میشیل نے کتاب میں کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے حوالے سے وہ اس حد تک ناخوش تھیں کہ ٹرمپ کے صدر کے منصب سنبھالنے والے روز بھی مسکرا نہ سکیں۔

باراک اوباما کے امریکا میں پیدا نہ ہونے سے متعلق افواہ کے بارے میں میشیل کہتی ہیں کہ "اگر کوئی ذہنی مریض شخص گولیوں سے بھرا پستول لے کر گاڑی چلا کر واشنگٹن ہماری بیٹیوں کی تلاش میں پہنچ جائے تو کیا ہوگا ۔۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے غیر ذمّے دارانہ بیانات سے ہمارے خاندان کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا تھا۔ اسی وجہ سے میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گی"۔

دوسری جانب ٹرمپ نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میشیل اوباما کو ان یادداشتوں کو شائع کرنے پر بہت بڑی رقم ملی ہے ،،، اور فروخت میں اضافے کے لیے ناشرین تنازع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔