.

خاشقجی کیس میں سعودی عرب کی تحقیقات ایک اہم قدم ہے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ جمال خاشقجی کے معاملے میں سعودی عرب کی تحقیقات صحیح سمت میں ایک اہم اقدام ہے۔

جمعرات کے روز جاری بیان میں امریکی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ مملکت کی جانب سے تحقیقات میں ابتدائی طور پر الزامات کا عائد کیا جانا یہ "ایک اچھا اولین قدم ہے" اور "صحیح سمت" میں ہے۔ بیان میں سعودی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تحقیقات میں پیش رفت جاری رکھے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 5 افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ان پانچ افراد نے جمال خاشقجی کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ سعودی حکام نے ان افراد سمیت کل 21 ملزموں سے پوچھ تاچھ کی ہے اور ان میں سے 11 پر قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ فوجداری نظام کے تحت فی الوقت ان ملزموں کے نام ظاہر نہیں کیے جاسکتے۔ استغاثہ کے مطابق ان ملزموں نے 29 ستمبر کو سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی اور پھر 2 اکتوبر کو قتل کے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان میں سے کسی ایک نے وہاں نصب نگرانی کے کیمرے بھی ناکارہ بنا دیے تھے۔ تحقیقات کے بعد اس شخص کی شناخت ہوچکی ہے۔