.

لیبیا: اجتماعی قبر سے ہاتھ پائوں بندھی 22 لاشیں برآمد

مقتول فوجیوں کا تعلق سابق لیبی فوجیوں سے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے "ہلال احمر" نے درنہ شہر میں ایک اجتماعی قبر سے 22 افراد کی لاشیں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ لاشیں لیبیا کے سابق فوجیوں کی بتائی جاتی ہیں جنہیں سنہ 2011ء کے داعش کے جنگجوئوں‌ نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہلال احمر کے شعبہ اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اجتماعی قبرسے نکالی گئی 22 لاشوں کو ڈائریکٹر سیکیورٹی اور پراسیکیوٹر جنرل کی موجودگی میں تحقیقات کے لیے پوسٹ مارٹم کے مراکزکو بھیج دیا گیا ہے۔

یہ تمام لاشیں‌ لیبیا کے سابق فوجیوں کی ہیں اور ان میں سے زیادہ ترکا تعلق ترھونہ شہر سے ہے۔ انہیں داعش کے جنگجوئوں نے 2011ء کو درنہ کے جنوب میں ایک کیمپ سے اغواء‌ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے ہاتھ پائوں باندھ کر گولیاں ماری گئیں اور انتہائی بے دردری کے ساتھ قتل کرکے اجتماعی قبر میں ڈال دیا گیا تھا۔ خدشہ ہے کہ بعض افراد کو زحمی حالت میں درگور کردیا گیا تھا۔

لیبیا کے ہلال احمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ فیس بک پر مقتول لیبی فوجیوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ تمام افراد معمر قذافی بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ہاتھ اور پائوں زنجیروں میں جکڑے گئے ہیں۔

ہلال احمر کے مطابق لیبیا میں داعش کے گرفتار کیے گئے دہشت گردوں‌ نے مختلف شہروں میں قتل عام کا اعتراف کیا ہے اور ان کی نشاندہی پر ملک کے مختلف شہروں میں اجتماعی قبروں کا پتا چلایا جا رہا ہے۔