.

پروفیسر طارق رمضان ساڑھے تین لاکھ ڈالرضمانت پر رہا

اسلام پسند پروفیسر کا پاسپورٹ ضبط، بیرون ملک سفر پرپابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خواتین کی آبرو ریزی کے مبینہ الزامات میں فرانس میں قید اسلام پسند پروفیسر طارق رمضان کو تین لاکھ 40 ہزار ڈالر کی ضمانت پر جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مذہبی جماعت اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے پوتے پروفیسر طارق رمضان کو امریکام فرانس اور سوئٹرزلینڈ میں خواتین کے ساتھ غیرقانونی ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے الزام میں فرانس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ضمانت پر اپنی رہائی کی متعدد بار کوششیں کرچکے ہیں۔ اس سے قبل فرانسیسی عدالت اُنہیں رہا کرنے پرتیار نہیں تھی۔ گذشتہ روز فرانس کی ایک اپیل عدالت نے انہیں تین لاکھ 40 ہزار ڈالر کی ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسلامیات کے پروفیسر طارق رمضان کے خلاف ان کی رہائی کے بعد مقدمہ کی کارروائی جاری رہے گی۔ تفتیش کے دوران وہ دو فرانسیسی خواتین کے ساتھ جنسی تعلق کے قیام کی تصدیق کرچکے ہیں تاہم ان کی مرضی کے بغیر ان کی آبرو ریزی کے الزامات کی مسلسل تردید کررہے ہیں۔

فرانس کے علاوہ ان کےخلاف امریکا اور سوئٹرزلینڈ کی خواتین نے بھی پروفیسر طارق رمضان کے خلاف آبرو ریزی کے الزامات عاید کیے ہیں۔ عدالت کی طرف سے صادرہونے والے فیصلے میں ‌کہا گیا ہے کہ پروفیسر طارق رمضان اپنا پاسپورٹ حکام کے پاس جمع کرائیں گے اور ہر ہفتے پولیس مرکز کو رپورٹ کریں گے۔ انہیں فرانس سے باہر سفر کرنے اور مدعیات سے رابطہ کرنے سے بھی منع کردیا گیا ہے۔

پروفیسر طارق رمضان کے خلاف مقدمہ کرنے والی ایک خاتون کے وکیل اریک موران کاکہنا ہے کہ ان کی موکلہ فیصلے سے مایوس ہیں مگر وہ قانونی جنگ جاری رکھیں گی۔

پروفیسر طارق رمضان کے وکیل عمانویل مارسینی نے "رائٹرز" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی جیل سے رہائی منطقی فیصلہ ہے۔ انہوں نے اپنے موکل کے خلاف دائر کردہ تمام دعوے اور الزامات جھوٹ کا پلندہ قرار دیےاور کہا کہ ان کیسز کا مقصد پروفیسر طارق رمضان کی شہرت کو نقصان پہنچانا ہے۔