.

ایران کے دس سیاسی دھڑوں کا نظام کے خلاف جدوجہد کے لیے اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دس سیاسی دھڑوں اور جماعتوں نے تہران میں نظام کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ اتحاد نظام کے دھڑن تختہ کے لیے مشترکہ جدوجہد کرے گا۔

ان سیاسی جماعتوں اور قوتوں نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے اپنے درمیان واضح نظریاتی اختلافات کے باوجود ایک وسیع تر اتحاد کی تشکیل سے اتفاق کیا ہے۔ بیان کے مطابق جو سیاسی قوتیں اور جماعتیں اس نئے اتحاد میں شامل ہوئی ہیں،ان کے نام یہ ہیں:

آذر بائیجان جمہوری اتحاد ، جمہوری اور سیکولر جمہوری وکلاء تحریک ، اہوازی جمہوری یک جہتی پارٹی ، جمہوری جماعت برائے ایرانی کردستان ، بلوچستان پیپلز پارٹی ، عوامی فدائی تنظیم ایران ، سوشلسٹ لیفٹ صوبائی کونسل اور کرد باغی تحریک (کمولا) ‘‘۔

ان تحریکوں کے نمایندوں نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں اور اس میں انھوں نے وضاحت کی ہے کہ وہ ملک میں ایک وفاقی جمہوری نظام کے قیام اور مذہب کو سیاست سے الگ کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ مذہبی اور قومی اقلیتوں کے حقوق، تمام شہریوں کے درمیان مساویانہ سلوک ، سیاسی آزادیوں اور جمہوری اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔تمام ایرانیوں کو مکانوں ، صحت کی خدمات اور تعلیم وغیرہ میں برابر مواقع مہیا کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ نظام سے یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ حقیقی اصلاحات کرے گا اور ایران کے اندر جس گروپ کی بالادستی ہے،اس سے ان میں سے کسی مطالبے کے پورا ہونے کی امید نہیں ہے۔اس لیے اتحاد کی نظر میں مسئلے کا حل یہ ہے کہ اسلامی جمہوری نظام کو چلتا کیا جائے اور ایران میں جمہوری نظام کے قیام کے لیے اس موجودہ نظام کے تحت اداروں کو توڑ دیا جائے۔

بیان میں گذشتہ عشروں کے تجربے کے حوالے سے اس امر کی بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ ’’ باہمی تعاون کے بغیر ایران میں صورت حال پر اثر انداز ہونا ممکن نہیں ہوگا‘‘۔

اس بیان پر دست خط کرنے والی جماعتوں کا تعلق ایران کے مختلف علاقوں اور نسلی ولسانی گروپوں سے ہے۔ مثلاً اس میں شامل اہوازی جمہوری یک جہتی پارٹی عرب اہواز ، بلوچستان ، کرد اور آذر بائیجانی جماعتوں کی نمایندہ ہے۔

اس اتحاد میں پہلی مرتبہ فارسی بان قوتوں اور جماعتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ان میں عوامی فدائی تنظیم ایران ، صوبائی کونسل برائے سوشلسٹ لیفٹ ایران اور جمہوری اور سیکولر وکلاء تحریک ایران شامل ہیں۔