.

یمن کی قانونی حکومت سویڈن میں مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی قانونی حکومت نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سویڈن میں ہونے والے مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔یمن میں جاری بحران کے حل پر غور کے لیے یہ امن مذاکرات آیند ہ ہفتوں کے دوران میں کسی وقت ہوں گے۔

یمنی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کے نام ایک خط لکھا ہے اور اس میں حکومت کی مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت سویڈن میں امن مذاکرات میں اپنی نمایندگی کے لیے ایک وفد بھیجے گی۔

خط میں یمنی حکومت نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا پر امن مذاکرات میں غیرمشروط پر شرکت کے لیے دباؤ ڈالے۔اس نے اقوام متحدہ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا مجوزہ امن مذاکرات میں کسی قسم کا رخنہ ڈالتی ہے یا حیلے بہانوں سے انھیں تاخیر کا شکار کرتی ہے تو اقوام متحدہ اس کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرے۔

مارٹن گریفتھس سویڈن میں آیندہ ہفتوں کے دوران میں یمن کی قانونی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کے انعقاد کے لیے کوشاں ہیں۔انھیں ان مذاکرات کے لیے امریکا ، برطانیہ اور فرانس سمیت عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بہت جلد یمنی دارالحکومت صنعاء کا دورہ کریں گے جہاں وہ حوثی باغیوں کی قیادت سے امن مذاکرات کی تیاریوں کے سلسلے میں بات چیت کریں گے اور اس کو سویڈن میں ہونے والے مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔