.

افغان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا سے کسی ڈیڈلائن پر اتفاق نہیں ہوا : طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں نے کہا ہے کہ امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کے ساتھ ان کے مذاکرات میں جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ گذشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تین روزہ مذاکرات کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ اپریل 2019ء میں سترہ سالہ جنگ کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

لیکن طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ ’’ یہ ابتدائی سطح کی بات چیت تھی اور طرفین کے درمیان کسی بھی ایشو پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوا ہے‘‘۔

طالبان کے تین عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکا کی جنگ کے خاتمے کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے اتفاق نہیں کیا ۔کابل میں امریکی سفارت خانے نے طالبان کے اس بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغان نژاد خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے اتوار کو اس امید کا اظہار کیا تھا کہ 20 اپریل تک طالبان کے ساتھ امن سمجھوتا ممکن ہے۔اسی تاریخ کو افغانستان میں صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے۔

امریکا کے دو سینیر عہدے داروں نے قطر میں گذشتہ ہفتے امن مذاکرات کےدوسرے مرحلے کے انعقاد کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ طالبان 2018ء کے اختتام سے قبل دوبارہ زلمے خلیل زاد سے ملاقات کریں گے۔

طالبان نے امریکا کے خصوصی ایلچی کے اس بیان پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ طالبان نے مذاکرات کے دوران یہ اعتراف کیا تھا کہ وہ فوجی لحاظ سے کامیاب نہیں ہوسکتے۔اس پر افغانستان میں ایک سینیر طالبان لیڈر نے کہا ہے کہ ’’ ہمیں زلمے خلیل زاد کے اتوار کو جاری کردہ بیان پر حیرت ہے ۔انھوں نے ہم سے غلط بیان منسوب کیا ہے کہ ہم عسکری میدان میں جنگ نہیں جیت سکتے ہیں‘‘ ۔

تاہم افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان جنگ ہار نہیں رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال ہم نے تعطل کا شکار کی اصطلاح استعمال کی تھی اور آج بھی یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

امریکی حکومت کی اسی ماہ جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے گذشتہ تین سال کے دوران میں افغانستان میں اپنی گرفت مضبوط بنا لی ہے۔کابل حکومت کا ملک کے 56 فی صد علاقے پر کنٹرول ہے جبکہ باقی ملک پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ 2015ء میں افغان حکومت کا ملک کے 72 فی صد علاقوں پر کنٹرول تھا اور وقت کے ساتھ اس کی گرفت کم زور پڑتی جارہی ہے۔