.

بحرین : پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات میں خواتین امیدواروں کی ریکارڈ تعداد میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین میں 24 نومبر کو پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ان انتخابات میں انچاس خواتین امیدوار پہلی مرتبہ ریکارڈ تعداد میں مرد امیدواروں کے مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔

پارلیمانی انتخابات کے لیے اکتالیس خواتین امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور بلدیاتی ا نتخابات میں آٹھ خواتین امیدوار حصہ لے رہی ہیں۔ان میں مختلف پیشوں سے وابستہ معروف خواتین وکلاء ،نامور شخصیات اور ایک اولمپیئن بھی شامل ہے۔2014ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں کل 22 خواتین امیدواروں نے حصہ لیا تھا اور ان میں صرف تین جیتنے میں کامیاب ہو سکی تھیں۔

ان شکست خوردہ امیدواروں میں ایک فوزیہ زینال تیسری مرتبہ پارلیمانی انتخابات میں بہ طور امیدوار حصہ لے رہی ہیں۔وہ 2014ء میں منعقدہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اپنے مدمقابل مرد امیدوارسے صرف 288 ووٹوں سے شکست سے دوچار ہوئی تھیں۔انھوں نے 2006ء میں پارلیمانی انتخابات میں پہلی مرتبہ حصہ لیا تھا اور 1764 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھیں۔

واضح رہے کہ بحرین کی پارلیمان میں دوسرے ممالک کی طرح خواتین کا کوئی کوٹا مختص کوٹا ہے اور وہ مردوں کے مقابلے میں براہ راست انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔بہت سے بحرینی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام ملک کے آئین اور قومی لائحہ عمل کے منافی ہے۔ اس نیشنل ایکشن چارٹر کی 2001ء میں منعقدہ ایک ریفرینڈم میں منظوری دی گئی تھی اور اس کے تحت بحرین میں وسیع تر سیاسی ، سماجی اور معاشی اصلاحات کی گئی تھیں۔

اس کی بنیاد پر 2002ء میں پہلی مرتبہ ملک میں پارلیمان انتخابات منعقد ہوئے تھے ۔ان میں اہلِ سنت اور اہل ِتشیع کی اسلامی سیاسی جماعتوں نے خواتین کو سرے سے اپنی فہرست میں شامل ہی نہیں کیا تھا۔ البتہ 31 خواتین نے آزاد امیدوار کے طور پر قسمت آزمائی کی تھی لیکن وہ تمام انتخابات میں ہار گئی تھیں۔

چار سال کے بعد 2006ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں 18 خواتین امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔ان میں صرف ایک امیدوار لطیفہ الجاعود خوش قسمتی سے کامیاب ہوسکی تھیں ۔ ہوا یہ تھا کہ ان کے مدمقابل دونوں مرد امیدواروں نے انتخابات سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔وہ بحرینی پارلیمان کی منتخب ہونے والی پہلی خاتون رکن تھیں۔ 2014ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں تین خواتین فاطمہ الاصفور ، رعا لاحائیکی اور جمیلہ السماک نے کامیابی حاصل کی تھی۔