.

کانگریس میں حجاب اوڑھنے کی پابندی کا خاتمہ نوشتہ دیوار ہے: الھان عمر

صومالی نژاد رکن کانگریس 181 سال پرانے قانون میں ترمیم لانے کے لئے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس اپنے داخلی قوانین میں ایک اہم ترمیم کرنے جا رہی ہے جس کے بموجب ایوان میں سر ڈھانپا ممنوع نہیں رہے گا۔ یہ ترمیم ایوان نمائندگان کی مسلمان رکن الھان عمر پیش کر رہی ہیں۔ الھان عمر امریکا کے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھیں۔ مجوزہ ترمیم کی امریکا میں سرگرم انسانی حقوق کی سرکردہ انجمنوں نے حمایت کی تھی۔

صومالیہ سے تعلق رکھنے والی الھان عمر رواں ماہ کے آغاز پر ڈیموکریٹس کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں تھیں۔ حالیہ ترمیم الھان کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے جس کی منظوری کے بعد گانگریس میں گذشتہ 181 برسوں سے نافذ سر ڈھانپنے کی پابندی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ نئی ترمیم میں دینی وجوہات کی بنا پر کانگریس میں سر ڈھانپے کی اجازت دی جائے گی اور اس کا اطلاق مسلمانوں کے حجاب، یہودی ٹوپی اور سکھوں کی پگڑی پر ہو گا۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈیموکریٹس کے اکثریتی ایوان نمائندگان سے مجوزہ ترمیم جنوری میں منظور ہو جائے گی۔ الھان عمر نے ہفتہ کے روز ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’’حجاب لینا اس کا حق ہے جسے امریکی دستور باقاعدہ تسلیم کرتا ہے۔‘‘

وسط مدتی انتخاب میں دو مسلمان خواتین میں سے الھان عمر منیسوٹا سے رکن کانگریس منتخب ہوئیں تھیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’’[حجاب] پر عائد پابندی کے خاتمے کے علاوہ وہ متعدد دیگر پابندیوں کا خاتمہ بھی چاہتی ہیں۔‘‘

اسلامی امریکن تعلقات کونسل نے سوموار کے روز الھان عمر کی ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس میں حجاب پر پابندی دستور اور دینی شعائر کی آزادانہ انجام دہی کے حق سے متصادم ہے۔‘‘

اگلے برس جنوری سے شروع ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں ریکارڈ تعدداد میں خواتین ارکان، لاطینی اور افریقی اصل ہم جنس پرست شرکت کریں گے۔

امکانی طور پر ڈیموکریٹ رکن جم میک گورن پیش آئند اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں الھان عمر کی ترمیم پر ووٹنگ ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی دراصل امریکی کانگریس کی رنگا رنگی کا مظہر ہے۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ ’’مجوزہ ترمیم سے بننے والے قواعد کے بموجب کسی رکن کانگریس کو اپنے مذہب کی وجہ سے کام سے نہیں روکا جا سکے گا۔‘‘