.

یورپی یونین کا ایران کے خلاف پابندیاں لگانے پر غور؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایران کے خلاف یورپ میں دو ناکام حملوں کی پاداش میں پابندیاں لگانے کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق رائے ظاہر کیا ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری ایرانی خفیہ اداروں پر عائد کی گئی تھی۔ اس پیش رفت کے بعد ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ کے کم سے کم 15 ارکان نے ان حملوں کے حوالے سے یورپی یونین کی خاموشی اور ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہدف تنقید بنایا تھا۔

ادھر ڈنمارک حکومت یورپی یونین میں اپنے اتحادیوں سے تہران کو سزا دینے کے لئے مشورے کر رہی ہے۔ ایران پر تین حکومت مخالف کارکنوں کو ڈنمارک کی سرزمین پر قتل کئے جانے کا الزام تھا۔

یورپی یونین میں خارجہ امور کی نگران فیڈیریکا موگرینی کا کہنا تھا کہ ڈنمارک میں جو کچھ ہوا وہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار کا یہ بیان ایران کے خلاف یورپ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کا عندیہ سمجھا جا رہا ہے۔

یورپی سفارتکاروں نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اتحاد کے وزرائے خارجہ نے گذشتہ روز دو ایرانی شہریوں پر فرانس میں بم دھماکا کا منصوبہ تیار کرنے کی پاداش میں سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسا فیصلہ اتحاد میں شامل دوسرے ملکوں کی جانب سے بھی ملتے جلتے اقدامات کی راہ ہموار کر دے گا۔

دوسری جانب اسی سال امریکا کی جانب سے نیوکلئیر معاہدہ سے نکلنے اور ایران پر دوبارہ سے پابندیاں لگانے کے بعد سے یورپی یونین تہران کے ساتھ محتاط انداز میں معاملات چلا رہا تھا۔