.

امریکا کی سعودی عرب سے ’’غیر متزلزل‘‘ شراکت داری برقرار رہے گی : ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ایران اور اس کی سرگرمیوں سے لاحق علاقائی خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ ’’غیر متزلزل‘‘ شراکت داری برقرار رکھے گا۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو ایک تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ایران یمن میں سعودی عرب کے خلاف ایک خونریز گماشتہ جنگ کا ذمے دار ہے۔انھوں نے کہا:’’ ایران عراق کی نوزائیدہ جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہا ہے، لبنان میں دہشت گرد گروپ حزب اللہ کی حمایت کررہا ہے،شام میں آمر بشار الاسد (جس نے اپنے ہی لاکھوں شہریوں کو ہلاک کردیا ہے) کی پشتیبانی کی ہے اور اس کے سوا بھی بہت کچھ کیا ہے۔ ایرانیوں نے مشرقِ اوسط بھر میں بہت سے امریکیوں اور دوسرے بے گناہ لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ایران کھلے عام او ر پوری قوت سے ’’مرگ بر امریکا ‘‘ اور ’’ مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگاتا ہے۔ایران کو دنیا میں دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والا سب سے بڑا ملک خیال کیا جاتا ہے‘‘۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ کانگریس سعودی عرب کے بارے میں ’’مختلف سمتوں میں جانے کے لیے آزاد ہے‘‘ لیکن و ہ ان ہی تجاویز پر غور کریں گے جو امریکا کی سلامتی کے ’’ مطابق‘‘ ہوں گی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں صدر ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ ’’ امریکا کے بعد سعودی عرب دنیا میں تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ وہ ( سعودی ) ہمارے ساتھ بڑے قریب سے کام کرتے رہے ہیں اور انھوں نے تیل کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے میری درخواستوں کا بہت مثبت جواب دیا ہے اور یہ دنیا کے لیے بھی ایک اہم بات ہے۔صدر امریکا کی حیثیت سے میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ایک بہت ہی خطرناک دنیا میں امریکا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرے اور ان ممالک کا پوری قوت سے مقابلہ کرے جو ہمیں نقصان پہنچانے کے درپے ہیں‘‘۔

انھوں نے گذشتہ سال اپنے دورۂ سعودی عرب کا بہ طور خاص حوالہ دیا ہے جس کے دوران میں سعودی عرب نے امریکا میں450 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری اور دفاعی سودوں سے اتفاق کیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ یہ ایک ریکارڈ رقم ہے۔اس سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔شاندار اقتصادی ترقی ہوگی اور اس سے امریکا کے لیے اضافی دولت پیدا ہوگی۔ ان 450 ارب ڈالرز میں سے 110 ارب ڈالرز بوئنگ ، لاک ہیڈ مارٹن ، رے تھیون اور امریکا کے دوسرے دفاعی اداروں سے فوجی سازوسامان کی خریداری پر صرف کیے جائیں گے۔اگر ہم حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سودوں کو منسوخ کردیتے ہیں تو پھر روس اور چین اس گراں بہا رقم سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور وہ اس کاروبار کو حاصل کرکے بہت خوش ہوں گے۔یہ بھاری رقم دراصل ان کے لیے امریکا کی جانب سے براہ راست ایک تحفہ ہوگی‘‘۔