.

سی آئی اے نے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمے داروں کو شناخت نہیں کیا: جیمز میٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث افراد کو سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے) نے شناخت کیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا اس صفحے کو پلٹنے کا جائزہ لے رہا ہے۔

انھوں نے بدھ کو امریکی محکمہ دفاع ( پینٹاگان ) میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں خاشقجی کے قاتلوں کو سعودی حکومت یا سی آئی اے نے مکمل طور پر شناخت نہیں کیا ہے۔

جیمز میٹس نے کہا کہ ’’جس طرح امریکا کو انسانی حقوق کے لیے اپنی حمایت پر کوئی معذرت نہیں کرنی چاہیے بالکل اسی طرح اس کو سعودی عرب کے ساتھ بے گناہ لوگوں کی بھلائی کے کام کرنے کی بنا پر بھی معذرت نہیں کرنی چاہیے‘‘۔

ان کا کہنا تھا:’’ امریکا اس بات میں یقین رکھتا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کیس میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے لیکن ان کے خیال میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات منقطع کرنا ایک غلطی ہوگی ‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس معاملے کے دو پہلو ہیں ۔ایک یہ کہ جو کوئی بھی اس واقعے میں ملوث ہے،اس کا احتساب کیا جائے اور دوسری جانب اگر ہم یمن میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سعودی عرب کے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا اور اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے‘‘۔

امریکی وزیر دفاع نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں انسانیت پسندی کا ثبوت دیا ہے ۔اس نے زخمی حوثی باغیوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے کی اجازت دی ہے اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر یمن کے لیے مزید پچاس کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم بھوک کا شکار یمنیوں کو خوراک مہیا کرنے پر صرف کی جائے گی۔ان اقدامات سے دسمبر کے اوائل میں سویڈن میں یمنی فریقوں کے درمیان امن مذاکرات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگی۔