.

یورپی یونین آج برطانیہ کی "طلاق" پر مہر ثبت کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین سے برطانیہ کی علاحدگی کے معاہدے کی توثیق کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک کا اہم سربراہ اجلاس آج اتوار کے روز برسلز میں ہو رہا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ نے اسپین کو یقین دہانی کرا دی ہے کہ بریگزٹ کے عمل میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جبرالٹر کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے۔

ادھر برطانوی وزیراعظم تھریزا مے نے برطانوی عوام سے براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ یورپی یونین سے برطانیہ کی علاحدگی کے معاہدے کو پوری طرح سپورٹ کریں۔ مے نے باور کرایا ہے کہ وہ برطانوی پارلیمنٹ میں اس معاہدے کی منظوری کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔

تھریزا مے اس ہفتے کے اوائل میں برسلز میں یورپی یونین کی قیادت کے ساتھ اکٹھا ہوں گی جہاں بریگزٹ ڈیل پر دستخط کیے جانے کے علاوہ برطانیہ کے یورپی یونین سے تعلق کے خاتمے کے حوالے سے سیاسی اعلان کیا جائے گا۔ اس طرح دنیا کے سب سے بڑے تجارتی بلاک کے ساتھ برطانیہ کا 40 سالہ تعلق اختتام پذیر ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں تھریزا مے نے صحافیوں بھیجے گئے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ "یہ معاہدہ ہمارے قومی مفاد میں ہو گا... یہ پورے ملک و قوم کے لیے مناسب ہو گا خواہ جنہوں نے علاحدگی کے لیے ووٹ دیا اور یا پھر یورپی یونین میں رہنے کے واسطے اپنی رائے دی"۔

اتوار کے روز شائع اخبارات کے مطابق تھریزا مے کی جماعت میں شامل مختلف گروپ اس وقت متبادل منصوبے تیار کرنے میں مصروف ہیں تا کہ برطانوی وزیراعظم کی ڈیل ناکام ہونے کی صورت میں برطانیہ کو یورپی یونین کے قریب ترین رکھا جا سکے۔

تھریزا مے نے برطانوی عوام کے نام اپنے پیغام میں زور دیا ہے کہ 29 مارچ 2019ء کو برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے پر سیاسی یک جہتی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہو گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بریگزٹ کے سبب جنم لینے والے اختلافات کو ختم کیا جائے۔

مے کا کہنا تھا کہ " میں چاہتی ہوں کہ یہ ہمارے پورے ملک کے لیے تجدید اور مصالحت کا لمحہ ہو۔ یہ ایسا لمحہ ہونا چاہیے جس میں یورپی یونین سے نکلنے یا باقی رہنے کی بحث کو دفن کر دیا جائے اور ہم ایک بار پھر ایک قوم بن کر سامنے آئیں"۔