.

حوثی باغی محفوظ راستہ ملنے کی صورت میں سویڈن میں یمن امن مذاکرات میں شرکت کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کی سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ ’’ ان کے وفد کو اگر بیرون ملک جانے اور پھر واپسی کا محفوظ راستہ دیا جاتا ہے تو وہ سویڈن میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہے‘‘۔

حوثی لیڈر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا وفد 3 دسمبر کو سویڈن پہنچ سکتا ہے۔ العربیہ نیوز چینل کے نمایندے نے اطلاع دی ہے کہ یمنی حکومت کا وفد حوثیوں کی سویڈن میں آمد کے بعد جائے گا۔

یمن میں متعیّن برطانوی سفیر نے کہا ہے کہ سویڈن میں آیند ہفتے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مذاکرات شروع ہوں گے اور ان میں یمن میں جاری جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ یمن کے حوالے سے یہ ایک بڑا اہم لمحہ ہے‘‘۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے گذشتہ ہفتے کے دوران میں جنگ زدہ یمن کا دورہ کیا تھا اور دارالحکومت صنعاء میں حوثیوں کی قیادت سے مجوزہ امن مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے الریاض کا دورہ کیا تھا اور وہاں یمن کی قانونی حکومت کے عہدے داروں سے بات چیت کی تھی۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے حوثیوں سے الحدیدہ میں قیام امن کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کردار کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔