.

سعودی عرب امریکا سے 15 ارب ڈالر مالیت کا میزائل دفاعی نظام ٹھاڈ خرید کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب امریکا کی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن سے پندرہ ارب ڈالرز مالیت کا میزائل دفاعی نظام ٹھاڈ خرید کرے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو بتایا ہے کہ سعودی اور امریکی حکام نے اس سودے کے سلسلے میں پیش کش اور قبولیت کی دستاویز پر دست خط کردیے ہیں اور سعودی عرب کو ٹرمینل ہائی آلٹی چیوڈ ایریا ڈیفنس (ٹھاڈ) لانچروں ، میزائلوں اور دیگر متعلقہ آلات کی فروخت کے لیے شرائط وضوابط کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ اور دفاعی صنعت حالیہ ہفتوں کے دوران میں سعودی عرب کو مجموعی طور پر 110 ارب ڈالرز مالیت کے اسلحے اور دفاعی سازوسامان کی فروخت کے سودوں کو بچانے کے لیے کوشاں رہی ہے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹھاڈ ڈیل پر دسمبر 2016ء سے بات چیت جاری تھی اور یہ اب مکمل ہوئی ہے۔

ایک سعودی عہدے دار نے اکتوبر میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا تھا کہ ستمبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فون پر گفتگو میں ٹھاڈ میزائل دفاعی نظام سے متعلق سمجھوتے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیل سعودی عرب اور خطۂ خلیج کی سلامتی کی طویل المیعاد ضروریات کو پورا کرے گی۔ سعودی عرب اور خلیجی عرب ممالک کو ایرانی رجیم اور اس کے حمایت یافتہ انتہا پسند گروپوں کے بیلسٹک میزائلوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز ایک اخباری مضمون میں لکھا تھا کہ سعودی عرب مشرقِ اوسط کے خطے کے استحکام میں ایک طاقتور قوت کی حیثیت رکھتا ہے اور تیل کی عالمی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔