.

تحریک النہضہ نے مجھے قتل کی دھمکی دی: تیونسی صدر کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے الزام عاید کیا ہے کہ مذہبی جماعت تحریک النہضہ نے انہیں ذاتی طور پر قتل کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک النہضہ نے اپنی سرگرمیوں کے لیے ایک خفیہ ادارہ تشکیل دے رکھا ہے تاہم اس کے بارے میں فیصلہ تیونس کی عدلیہ کرے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قومی سلامتی کے ایک اجلاس سے خطاب میں صدر السبسی نے کہا کہ حال ہی میں تحریک النہضہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے قاتلانہ حملوں میں مارے جانے والے رہ نمائوں شکری بلعید اور محمد البراہمی کے دفاعی پینل کی صدر جمہوریہ کی جانب سے استقبال کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ اس بیان میں تحریک النہضہ نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی مگر میں اسے اس کی اجازت ہر گز نہیں دے سکتا۔ تحریک النہضہ کو اپنی مرضی کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت اس کے بارے میں جلد کوئی فیصلہ کرے گی۔

صدر الباجی قاید السبسی کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کریں‌ گے۔ وہ پورے ملک کے صدر ہیں اور ملک کا جو بھی طبقہ ان سے ملنے کی خواہش کرے گا وہ اس سے ضرور ملیں گے۔ انہوں‌ نے کہا کہ مقتول سیاسی رہ نما البراہیمی اور شکری بلعید کے دفاعی پینل کی طرف سے تحریک النہضہ پر قاتلانہ حملوں میں قصور وار قرار دینے کا معقول جواز موجود ہے۔