.

منشیات امریکیوں کی عمر کھانے لگی، اوسط عمرمیں ریکارڈ کمی

منشیات امریکیوں کی جڑوں میں بیٹھ گئی،خوفناک اعدادو شمار سےحکومت پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں منشیات کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ہی اوسط عمر میں بھی سرکاری سطح پر کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ سنہ 2014ء کی نسبت 2017ٰء میں امریکیوں کی اوسط عمر تقریبا دو سال کم کردی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صحت کے اعداد وشمار کے قومی مرکز میں فوتیدگی کے سیکشن کے سربراہ رابرٹ انڈرسن نے ایک بیان میں بتایا کہ سنہ 1918ء میں امریکا میں انفلوئنزا کی وباء پھیلنے کےبعد امریکا میں اوسط عمر کم ہو گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2017ء میں اوسط عمر سنہ 2014ء کی نسبت کم کر دی گئی ہے۔ گذشتہ برس مردوں میں اوسط عمر 76 اعشاریہ 1 سال اور خواتین میں 81 اعشاریہ ایک سال مقرر کی گئی ہے جب کہ سنہ 2014ء میں مردوں کی اوسط عمر 87 اعشاریہ 6 سال اور خواتین میں 78 اعشاریہ 9 سال تھا۔

اوسط عمر کا یہ تناسب ساڑھے تین سال میں سب سے کم سطح پرآ گیا ہے۔ یہ کینیڈا کے اعداد وشمار سے بھی کم ہے وہاں بھی منشیات کے بڑھتے استعمال کے باعث اوسط عمر میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

امراض سے تحفظ مرکز کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ کا کہنا ہے کہ امریکا میں اوسط عمر میں کمی کے اعداد وشمار پریشانی کا باعث ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم منشیات کی وجہ سے بہت سی زندگیاں کھو دیں‌ گے۔

سنہ 2017ء کے دوران منشیات کے اندھا دھند استعمال سے 70 ہزار امریکی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ تعداد سنہ 2016 کی نسبت سے10 فی صد زیادہ ہے۔