فرانس : ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کا تیسرا ہفتہ ، مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ، 200 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تیسرے اختتام ہفتہ پرہزاروں مظاہرین نے ایندھن پرٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور صدر عمانوایل ماکروں کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔مشتعل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئی ہیں اور انھوں نے شاہراہوں کے وسط میں رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹائروں او ر دوسری اشیاء کو آگ لگادی ہے۔

فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے کہا ہے کہ بعض مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر حملے کیے ہیں اور پہلے کبھی اس قسم کے تشدد کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔تشدد آمیز واقعات پر 200 سے زیادہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔انھوں نے پیرس میں پولیس کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیمپس ایلزی ایونیو کے آس پاس ہزاروں مظاہرین جمع ہو کر احتجاج کررہے ہیں۔وزارت داخلہ کے مطابق احتجاجی ریلیوں میں 75 ہزار افراد نے شرکت کی ہے۔

پیرس میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے قریباً پانچ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔مظاہرین کو چیمپس ایلزی تک پہنچنے کے لیے پولیس کے چیک پوائنٹ سے گزارا گیا تھا۔اس دوران میں جب مظاہرین نے دھاوا بول کر گزرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انھیں اشک آور گیس کے گولے پھینک کر منتشر کردیا۔ تاہم زیادہ تر مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ پُرامن تھے۔البتہ ان میں سے بعض اپنے ساتھ پلائی ووڈ کی شیٹوں سمیت تعمیراتی سامان لے کر آئے تھے اور اس کو شاہراہوں کے درمیان میں رکھ کر آگ لگادی ۔

پیرس میں گذشتہ ہفتے کے روز بھی شہریوں نے ’’زرد صدریاں‘‘ پہن کر ایندھن پر ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا ۔پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس اور ’’پانی توپ‘‘ ( واٹر کینن) کا استعمال کیا تھا۔ 17 نومبر سے جاری ان مظاہروں کے دوران میں اب تک تشدد کے واقعات میں دو افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

فرانس میں موٹر گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیور پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں اضافے اور صدر عمانوایل ماکروں کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف سخت سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔وہ زرد رنگ کی صدریاں پہن کر احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈرائیوراپنی کاروں میں زرد صدری رکھنے کے پابند ہیں۔اسی لیے وہ یہ صدری پہن کر احتجاج کررہے ہیں۔ صدر ماکروں نے گذشتہ سال ڈیزل اور پیٹرول پر نئے ٹیکس عاید کیے تھے۔انھوں نے یہ ٹیکس شہریوں کی ماحول دوست ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی غرض سے متعارف کرائے تھے۔ حکومت نے ٹیکسوں کے علاوہ گرین یا بجلی سے چلنے والی گاڑیاں خرید کرنے والے شہریوں کو مراعات کی بھی پیش کش کی ہے۔

ہفتہ 17 نومبر کے بعد زرد صدری والوں کے پہلے، دوسرے اور تیسرے مظاہرے میں ملک بھر میں قریباً تین لاکھ افراد نے شرکت کی ہے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ نے گذشتہ جمعرات کو بتایا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں تشدد کے واقعات میں دو افراد ہلاک اور 606 زخمی ہوگئے تھے۔

ماکروں حکومت کے معاشی اقدامات کے خلاف اس احتجاجی تحریک کا کوئی لیڈر نہیں ہے لیکن یہ وقت کے ساتھ زور پکڑ رہی ہے اور رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق 70 فی صد فرانسیسیوں نے اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں