یورپ، ایران کے 'عشق' میں‌ کیوں گھلا جا رہا ہے: امریکی جریدے کا سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا سے شائع ہونے والے ایک مقبول جریدے نے یورپی یونین کی جانب سے ایران کی حمایت پر سخت تنقید کی ہے۔ جریدے کے مطابق یورپی ملکوں اور ایرانی رجیم کے درمیان ہمدردی کے جذبات دراصل تہران کو زوال سے بچانے میں اس کی مدد کی ایک کوشش ہے۔

امریکی جریدے"ویکلی اسٹینڈرڈ" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں فاضل مضمون نگار نے لکھا ہے کہ یورپی ممالک ایرانی رجیم سے بڑھ کر تہران کے ساتھ طے پائے2015ء کے معاہدے کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ 5 نومبر کو امریکا کی طرف سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے بعد ایران کی جوہری ڈیل کو بچانا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ کئی بڑی عالمی کمپنیاں ایران سے نکل چکی ہیں اور بہت سی اپنا کام اور کاروبار بند کرچکی ہیں۔

جریدے کے مطابق یورپی مماللک ایران کو متبادل مالیاتی نظام کا آئیڈیا دے رہے ہیں۔اس نظام کے تحت عالمی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانا ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران یورپی ملکوں‌ نے ایران کے ساتھ مل کر "پابندیوں کو مسترد کرنے" کا کھیل شروع کر رکھا ہے۔ اس سارے کھیل تماشے کا مقصد ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانا ہے۔

ایران کو متبادل مالیاتی نظام کی سہولت فراہم کرنے کے لیے آسٹریا کو تجویز پیش کی گئی تھی مگر لکسمبرگ نے اس کا انکار کر دیا۔ اس کے بعد فرانس اور جرمنی نے امریکی پابندیوں کے مقابلے میں ایران کو متبادل مالیاتی نظام مہیا کرنے کی کوششوں میں تعاون کا یقین دلایا گیا۔

"ویکلی اسٹینڈرڈ" کے مطابق ایران کو ادائیگیوں کا نیا طریقہ کار کئی خطرات سے بھرپور ہے مگر اس کا مقصد ایران کے خطے میں سابقہ رویے کو نظرانداز کرکے تہران کی دہشت گردی کی پشت پناہی کی پالیسی میں مدد جاری رکھنا ہے۔

امریکی مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ایرانی رجیم مالیاتی چینل کو اپنے دہشت گردانہ اور خطے میں فوجی عزائم کی فنڈنگ کے لیے ایک میکنزم کے طور پراستعمال کرے گا۔

مگر ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے اس چینل کو امریکا کی جانب سے سخت ترین پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ بار بار ایران کے ساتھ مالیاتی امور میں تعاون کرنے والوں کو سنگین نتائج سے خبردار کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں