.

اسرائیل کی انتقامی کارروائی ،مقبوضہ القدس کے فلسطینی گورنر گھر پر نظر بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک عدالت نے مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی گورنر کو حراست سے رہا کرکے تین روز تک ان کے گھرپر نظر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

یروشلیم کی میجسٹریٹ عدالت کے جج شاوی ٹوکر نے اتوار کو عدنان غیث کو آیندہ منگل تک گھر پر نظربند کرنے کا حکم دیا ہے۔اس دوران میں مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کو ایک عمارت فروخت کرنے والے فلسطینی نژاد امریکی شہری کے معاملے کی تحقیقات کی جائے گی۔

اعصام عاقل نامی اس امریکی فلسطینی کو فلسطینی اتھارٹی نے اکتوبر میں مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی خریدکاروں کو اپنی ملکیتی عمارت فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔اسرائیلی پولیس کو شُبہ ہے کہ اس شخص کی گرفتار ی میں عدنان غیث کا بھی ہاتھ کارفرما ہے اور ان سے اسی الزام کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

اسرائیلی پولیس کو یہ بھی شُبہ ہے کہ عدنان غیث مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی مکینوں کو فلسطینی اتھارٹی کی مسلح افواج کے لیے بھرتی کررہے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام 1993ء میں طے شدہ اوسلو معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

فلسطینی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے گورنر کی گرفتاری اور پھر انھیں گھر پر نظر بند کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل عاقل کیس میں فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے اس طرح کی اوچھی حرکتیں کررہا ہے جبکہ اسرائیلیوں کے علاوہ امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین نے بھی عاقل کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

عدنان غیث کے وکیل رامی عثمان کا کہنا ہے کہ عدالت کا ان کے موکل کی رہائی اور پھر گھر پر نظربند کرنے کا فیصلہ یہ بات ثابت کرتا ہے کہ’’ یہ کوئی سنجیدہ کیس نہیں بلکہ اب تو ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا ‘‘والا معاملہ ہوا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’انھوں( اسرائیلی حکام) نے ان کے موکل کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ عدنان غیث یروشلیم کے مزید گورنر رہیں‘‘۔

دریں اثناء فلسطینی اتھارٹی کے تحت سکیورٹی فورسز کے ترجمان میجر جنرل عدنان الدمیری نے کہا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ سکیورٹی روابط منقطع کردیے ہیں۔اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کا کہنا ہے کہ رابطے ختم کرنے کا مقصد عاقل کی حراست سے رہائی کے لیے فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی گورنر عدنان غیث کو 25 نومبر کو دوبارہ گرفتار کر لیا تھا ۔ انھیں قبل ازیں 20 اکتوبر کو بھی اراضی کی فروخت کے اس معاملے پر اسرائیلی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ان سے اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت نے دو روز تک پوچھ تاچھ کی تھی اور پھر رہا کردیا تھا۔

اسرائیلی ایجنسی نے تب کہا تھا کہ انھیں فلسطینی اتھارٹی کی یروشلیم میں غیر قانونی سرگرمی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے 4 نومبر کو ان کے دفتر میں چھاپا مار کارروائی کی تھی اور اس کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا تھا۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے مشرقی القدس میں فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی کی فروخت پر پابندی عاید کررکھی ہے اور اس اقدام کو غداری سمجھا جاتا ہے۔فلسطینیوں سے بالعموم صہیونی آبادکار اراضی یا مکانات خرید کرتے ہیں اور پھر وہاں آباد ہوجاتے ہیں۔

یادرہے کہ اسرائیل نے مشرقی القدس پر 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں قبضہ کر لیا تھا اور پھر 1980ء میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔اب وہ مشرقی اور مغربی القدس دونوں کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی شہر کے مشرقی حصے کو مستقبل میں اپنی قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی اتھارٹی کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کررکھی ہے جس کے بعد اتھارٹی نے بیت المقدس کے امور کے ذمے دار وزیر اور گورنر کے دفاتر شہر کے دوسری جانب اسرائیل کی علاحدگی کی دیوار کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع علاقے الرام میں منتقل کر دیے تھے۔