.

ترکی اِدلب کا بحران حل کرنے میں ناکام رہا : پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میر پوتین کا کہنا ہے کہ ترکی شام کے صوبے ادلب کا بحران حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ انہوں نے شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول ادلب کی صورت حال پر ماسکو کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا۔

روسی صدر کا یہ موقف ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔ پوتین نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات منسوخ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا کہ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت "واقعتا ضروری" ہے۔ دونوں سربراہان کی ملاقات بیونس آئرس میں جی ٹوئنٹی کے سربراہ اجلاس کے ضمن میں ہونا طے پائی تھی۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ "ہمیں انتہائی اہمیت کے معاملات کو زیر بحث لانا چاہیے۔ ان میں سب سے پہلے تزویراتی استحکام کے معاملات اور پھر وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا سے متعلق خصوصی معاملات ہیں"۔

جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کے آغاز سے قبل ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی جنم لینے پر پوتین کے ساتھ اپنی مقررہ ملاقات منسوخ کر کے سب کو حیران کر دیا۔

پوتین نے ہفتے کے روز باور کرایا کہ انہوں نے سربراہ اجلاس کے ضمن میں ٹرمپ کے ساتھ یوکرین کے بحران پر گفتگو کی۔ روسی صدر کے مطابق انہوں نے کھڑے رہ کر بحر اسود کے واقعے سے متعلق ٹرمپ کے سوالات کا جواب دیا۔ پوتین نے واضح کیا کہ اس معاملے پر ان کے اور امریکی صدر کے اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر ہیں۔