.

تیونس : النہضہ کو دہشت گردی سے تعلق پر کالعدم قرار دینے کے لیے قانونی چارہ جوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے دو مقتول سیاسی رہ نماؤں شکری بالعید اور محمد براہیمی کے وکلاء کی ٹیم کے ایک رکن نے مذہبی سیاسی جماعت النہضہ تحریک کو دہشت گردی سے تعلق کے الزام میں کالعدم قرار دلوانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔

دفاعی ٹیم کے رکن علی کلثوم نے کہا ہے کہ وہ مقتولین کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت ہی میں النہضہ کے خلاف کیس دائر کریں گے۔اس عدالت نے شکری بالعید کے قتل کے مقدمے کی جمعہ کوسماعت کی تھی اور مزید سماعت 30 مارچ 2019 ءتک ملتوی کردی ہے۔

تیونسی صدر باجی قائد السبسی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ النہضہ تحریک پارٹی نے انھیں ذاتی طور پر قتل کی دھمکی دی تھی اور وہ اس طرح کی تشدد آمیز دھمکیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔انھوں نے یہ بات قرطاج صدارتی محل میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران میں کہی تھی۔

تیونس کی قومی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ النہضہ تحریک کی خفیہ کارروائیوں کی تحقیقات کرے گی ۔