.

سعودی عرب 2020ء میں جی 20 سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں منعقدہ گروپ20 کے دو روزہ سربراہ اجلاسں کے اختتام پر حتمی اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔اس میں گروپ کے آیندہ سال سربراہ اجلاس کے جاپان میں انعقاد اور 2020ء میں سعودی عرب میں انعقاد کی توثیق کی گئی ہے۔

سعودی عرب دنیا کے بیس بڑے صنعتی اور معاشی لحاظ سے بڑے ملکوں میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائز کے اعتبار سے چین اور جاپان کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔اس کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 507 ارب 20 کروڑ ڈالرز (1.9 ٹریلین ریال،ایک پدم 900 کھرب ) ہے ۔

آئی ایم ایف ، عالمی بنک اور مقامی ایجنسیوں کے اعداد وشمار کے مطابق اکتوبر کے اختتام پر جی 20 کے رکن ممالک ( یورپی یونین بلاک کے بغیر) کے تمام غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 7.9 ٹریلین ڈالرز( 7 پدم 9 سو کھرب ڈالر)تھی ۔اس طرح سعودی عرب کے غیرملکی زرمبادلہ کا حجم گروپ کے کل زرمبادلہ کے ذخائر کا 6.4 فی صد بنتا ہے۔

دریں اثناء جی 20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ارجنٹینا کے صدر موریشسیو ماکری نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہفتے کے روز روسی صدر ولادی میر پوتین ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس ، اطالوی وزیراعظم جیوسیپ اور ارجنٹینا کے صدر موریشسیو ماکری سمیت مختلف عالمی لیڈروں سے ملاقات کی ہے۔

جی 20 کے اجلاس میں شریک رہ نماؤں نے عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او) میں اصلاحات سے اتفاق کیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رہ نماؤں نے مستقبل میں روزگار ، انفرا اسٹرکچر ، پائیدار ترقی اور تحفظ ِ خوراک ایسے اہم موضوعات پر غور کیا ہے۔

ان عالمی رہ نماؤں نے متفقہ بین الاقوامی معیارات پر مبنی ایک کھلے اور لچک دار مالیاتی نظام کے قیام سے اتفاق کیا ہے، مالیاتی اصلاحات کے متفقہ ایجنڈے کو حتمی شکل دی ہے اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔بیان کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ ’’ ہم مالیاتی نظام کو درپیش خطرات اور در آنے والی کم زوریوں کی نگرانی جاری رکھیں گے اور اگر ضروری ہوا تو ان کا ازالہ کریں گے‘‘۔

جی 20 سربراہ اجلاس  میں شریک لیڈروں کا  گروپ فوٹو ۔
جی 20 سربراہ اجلاس میں شریک لیڈروں کا گروپ فوٹو ۔