.

پوتین کا ایردوآن سے اِدلب میں جنگ بندی مؤثر بنانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرملن ہاؤس کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتین نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کے صوبے ادلب میں جنگ بندی کو دیرپا بنانے کے واسطے "زیادہ مؤثر اقدامات" کریں۔

پوتین اور ایردوآن کی ملاقات ہفتے کے روز بیونس آئرس میں جی ٹوئنٹی کے سربراہ اجلاس کے ضمن میں ہوئی۔

روسی خبر رساں ایجنسی نووسٹی کے مطابق کرملن ہاؤس کے ترجمان دمتری بیسکوف نے باور کرایا ہے کہ مذکورہ اقدامات ضروری ہیں تا کہ ادلب کے پڑوس میں حلب کو زہریلی گیس کے راکٹ گرینیڈز سے نشانہ بنانے جیسے واقعات رونما ہونے سے روکے جا سکیں۔

روس اور ترکی کے درمیان 17 ستمبر کو ایک معاہدے طے پایا تھا جس میں شام میں اپوزیشن گروپوں کے آخری گڑھ ادلب میں ہتھیاروں سے پاک علاقہ قائم کرنے پر اتفاق رائے ہوا تھا۔

شام میں سات برس سے زیادہ عرصے سے جاری تنازع میں روس بشار حکومت کو سپورٹ کر رہا ہے جب کہ ترکی کی حمایت اپوزیشن گروپوں کو حاصل ہے۔

اس معاہدے پر عمل درامد میں مشکلات کا سبب اپوزیشن گروپوں کی جانب سے علاقے کو خالی کرنے سے انکار ہے۔ علاقے میں کئی ہفتوں سے وقفے وقفے سے دہشت گردوں اور شامی حکومت کے درمیان جھڑپیں اور گولہ باری دیکھی جا رہی ہے۔

اتوار کے روز روس کی فضائیہ نے ادلب میں کئی علاقوں پر حملے کیے جو کہ گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے میں پہلی کارروائی ہے۔ یہ حملے حلب پر شامی اپوزیشن گروپوں کی بم باری کے جواب میں کیے گئے جن کے بارے میں بشار حکومت کا دعوی ہے کہ ان میں زہریلی گیسوں پر مشتمل راکٹ گرینیڈز کا استعمال کیا گیا۔