.

فرانسیسی صدر پیرس میں ہنگاموں کے بعد مظاہرین کے نمایندوں سے نئے مکالمے کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے اپنے وزیر داخلہ کو ملک میں ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرو ں پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی اقدامات پر غور کی ہدایت کی ہے۔

فرانسیسی صدر کے دفتر نے ایلزی محل میں عمانوایل ماکروں کے زیر صدارت اتوار کو ایک ہنگامی اجلاس کے بعد بیان جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق صدر ماکروں نے وزیراعظم ایڈرورڈ فلپ کو فرانس کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور حکومت مخالف مظاہروں کے پیچھے کارفرما تحریک کے نمایندوں سے ملاقات اور مکالمے کی ہدایت کی ہے۔

صدارتی محل میں منعقدہ اس اجلاس میں وزیراعظم ایڈورڈ فلپ ، وزیر داخلہ کرسٹوفی کیسٹنر اور ماحولیات کے وزیر فرانسو ڈی رگبی سمیت اعلیٰ عہدے داروں نے شرکت کی ہے۔قبل ازیں حکومت کے ترجمان بنجامین گریویوکس نے کہا تھا کہ ملک میں جاری بد امنی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ پر غور کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے پُرامن مظاہرین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

وزیراعظم اور زرد صدری تحریک کے نمایندوں کے درمیان قبل ازیں گذشتہ ہفتے ملاقات ناکام رہی تھی کیونکہ تحریک کے نمایندوں نے بات چیت کو براہ راست نشر کرنے کی درخواست کی تھی لیکن اس کو مسترد کردیا گیا تھا۔

فرانس میں 17 نومبر سے ’’ زرد صدری تحریک ‘‘کے مظاہروں کے دوران میں تشدد کے واقعات میں تین افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ مظاہرین نے گذشتہ دو ہفتوں کی طرح ہفتے کے روز بھی ’’زرد صدریاں‘‘ پہن کر ایندھن پر ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس اور ’’پانی توپ‘‘ ( واٹر کینن) کا استعمال کیا تھا ۔

’’زردی صدری تحریک‘‘ پیٹرول پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف شروع ہوئی تھی لیکن اب اس تحریک کے کارکنان نے فرانس میں مہنگے رہن سہن کے خلاف بھی آواز اٹھانا شروع کردی ہے اور وہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے مطالبات کررہے ہیں۔مظاہرین کی گذشتہ روز پیرس کے مختلف علاقوں میں پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں ۔انھوں نے متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی اور دکانوں کی کھڑکیاں اور شیشے توڑ دیے تھے۔

صدر ماکروں کی حکومت کے خلاف احتجاج کا یہ سلسلہ فرانس بھر میں پھیل چکا ہے اور ملک کے جنوب میں زرد صدری تحریک کے مظاہرے کی وجہ سے ہفتے کی شب ایک موٹر گاڑی میں سوار شخص ٹریفک حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔فرانس کے ایک پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ایک شاہراہ کو بند کررکھا تھا اور اس حادثے کا براہ راست تعلق اس شاہراہ کی بندش سے ہے جس کی وجہ سے 10 کلومیٹر تک ٹریفک جام تھا۔

فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ فلپ کا کہنا ہے کہ بعض مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر حملے کیے ہیں اور پہلے کبھی اس قسم کے تشدد کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔پُرتشدد ہنگاموں کے الزام میں گذشتہ روز کم سے کم دو سو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک عشرے کے بعد فرانس میں یہ بدترین مظاہرے ہیں۔