.

چین اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ 90 روز کے لیے تھم گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیونس آئرس میں ہفتے کے روز ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ دونوں ملکوں کے بیچ جاری تجارتی جنگ میں وقفہ دیے جانے پر متفق ہو گئے۔ اس جنگ بندی کے تحت واشنگٹن تین ماہ کے لیے چین سے امریکا درآمد کی جانے والی نصف مصنوعات پر کسٹم محصولات میں اضافے کے فیصلے پر عمل درامد روک دے گا۔

چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے بیونس آئرس میں ایک پریس کانفرس میں بتایا کہ شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ نئے کسٹم ٹیکس عائد کیے جانے پر روک لگانے کے حوالے سے متفق ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب چین کے نائب وزیر تجارت وینگ ژوان نے ایک پریس کانفرس میں بتایا کہ ہفتے کی شب منعقد ورکنگ ڈنر دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ اس دوران واشنگٹن اس امر پر آمادہ ہو گیا کہ وہ چین سے سالانہ 200 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر کسٹم محصولات میں اضافے کے فیصلے پر عمل کو موقوف کر دے گا۔

تاہم وہائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ایک بیان میں واضح کیا کہ ٹرمپ نے محصولات میں اضافے کا فیصلہ واپس نہیں لیا ہے بلکہ اس پر عمل درامد کو 90 روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے تا کہ دونوں ممالک اپنے بیچ جاری تجارتی جنگ ختم کرنے کے واسطے کسی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ بیان کے مطابق اگر فریقین اس مدت کے اختتام تک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے تو پھر کسٹم محصولات کو 10% سے بڑھا کر 25% کر دیا جائے گا۔

وہائٹ ہاؤس کے بیان میں ٹرمپ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات بار آور رہی اس اس سے چین اور امریکا کے سامنے لا محدود مواقع کی راہ ہموار ہو گی۔

دوسری جانب چینی وزیر خارجہ نے دونوں سربراہان کے درمیان ملاقات کو "فریقین کے لیے فائدہ مند" قرار دیا۔